ابھی بہار کا نشہ لہو میں رقصاں تھا کف خزاں نے ہر اک شے کے ہاتھ پیلے کیے زندگی موج میں خرام کرتی ہے۔ آہوئے فتن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہے اور آسمان تخیل پر پرواز کرتی ہے۔ سانس کی آمدو رفت ایک خوشگوار احساس کی طرح حرز جاں ہوتی ہے مگر تابہ کے وقت تو معین ہے مگر نیند کیوں رات بھر نہیں آتی مظاہرمگر آنکھوں کی پتلیوں کو ساکت کر کے گزر جاتے ہیں۔ اظہار شاہیں ابھی کل کی بات ہے’’ ایک پتہ گرا پیڑ سے۔ ٹوٹنا کتنا آسان ہے‘‘۔ دل کہتا ہے ایک ہچکی میں دوسری دنیا۔سعد اتنی سی بات ساری ہے۔ ہمارے دوست قمر رضا شہزاد نے معروف دانشور اور ادیب آصف فرخی کے وصال پر پوسٹ لگائی تو جمال احسانی کا شعر درج کیا: یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی ابھی تو جاکے کہیں دن سنورنے والے تھے میں تو فوراً گہری سوچ میں کھو سا گیا کہ کیسے سب کچھ ماضی کے سمندر میں اترتا جاتا ہے اورہی وقت کا سمندر جس کا شیلی shelleنے ذکر کیا تھا کہ وہ سب کچھ نگلتا جا رہا ہے۔1997ء کی یخ بستگی میں اور آصف شیخ کراچی گئے تو فاطمہ حسن کے ساتھ ہم جمال احسانی کی تیمارداری کے لئے ہسپتال پہنچے وہ مجھے دیکھتے ہی کھل اٹھا وہ بستر مرگ پر تھا، فاطمہ حسن نے ہنستے ہوئے کہا’’جمال تم فکر نہ کرو تم سٹھیائے بنا نہیں مرو گے۔ وہ مسکرایا کہ بہت زندہ دل تھا۔ میراہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنا شعر پڑھا: چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوتے سچ کہا تھا شاعر نے کہ موت سے کس کو رستگاری ہے۔ آج وہ کل ہماری باری ہے۔ ہاں یہ ابدی حقیقت ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کے جانے سے نقصان کا احساس ضرور ہوتا ہے پھر اچانک چلے جانے سے یقین ڈگمگانے لگتا ہے۔ آصف فرخی بھی اپنے تخلیقی جوبن پر تھے۔ میں تو عقیل عباس جعفری کی پوسٹ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ انہوں نے ایک ہونہار طالب علم کا 1976ء کے امتحان کا انٹرویو لگایا کہ اس روز ایف ایس سی میں کراچی بورڈ ٹاپ کیا تھا۔ یہ طالب علم آصف اسلم تھا جو بعدازاں آصف فرخی کے نام سے ادب کے افق پر جگمگایا۔ میں نے وہ انٹرویو بہت دلچسپی سے پڑھا اور دل میں آیا کہ سچ کہتے ہیں۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ آصف ڈاکٹری کے شعبے سے وابستہ ہوئے مگر حوالہ ادب بنا۔ ان کی پیدائش 1959ء کے کسی مہینے کی ہے ان کے والد گرامی ڈاکٹر پروفیسر اسلم فرخی ایک بڑا نام ان کے پیش نظر تھا اور تربیت کا ماخذ بھی۔پروفیسر ڈاکٹر اسلم فرخی نے محمد حسین آزاد پر پہلی پی ایچ ڈی 1980ء میں کی۔ آصف فرخی کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تھیں۔ غالباً شاہد دہلوی کی بھتیجی۔ گویاوہ ادب کے گہوارے میں پروان چڑھے۔زینہ بہ زینہ سفر بلندی کی طرف کیا۔ دیکھا جائے تو وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ صرف افسانہ نگار اور فکشن رائٹر ہی نہیں ،ایک فعال منتظم ہی نہیں، ایک تحریک تھے کہ اردو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروانے والے ۔ان سے کانفرنسوں میں ملاقات ہوئی وہ زیادہ تر صاحبان علم کے ساتھ ہی دکھائی دیتے۔ ہم ٹھہرے آوارہ شاعر۔ ہاں یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ عقیل عباس جعفری نے بتایا کہ آصف فرخی کا آغاز شاعر ہی سے ہوا۔ تو شاید انہوں نے خود ہی دریافت کر لیا کہ وہ تو کام کے آدمی ہیں اور کام تو فکشن میں ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے بیج فیلو شاہد حمید اور امجد طفیل وغیرہ ہیں یا کچھ بعد میں جمیل احمد عدیل۔ کیا کروں مجھے نثر نگاروں کے نام کم کم آتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پہلے آصف فرخی کی کتب کے نام لکھ دیے جائیں۔، ادبی تنقید میں عالم ایجاد‘ نگاہ آئینہ ساز میں ‘ چراغ شب افسانہ‘ انتظار حسین کا جہاں فن۔ افسانوں میں آتش فشاں پر کھلے گلاب ‘ اسم اعظم کی تلاش‘ چیزیں اور لوگ، میں شاخ سے کیوں ٹوٹا‘ شہر بیتی‘ شہر ماجرا۔ ایک آدمی کی کمی اور سمندر کی چوری وہ ان دنوں وبا کے حوالے سے کام کر رہے تھے۔ ان کی ایک کتاب اس وقت تو یوں لگتا ہے بحران کے دنوں میں لکھی جانے والی نظموں کا سلسلہ ہے۔ انہوں نے ادبی انٹرویوز بھی کئے جو حرف من و تو‘ کے نام سے شائع ہوئے ان کا ایک پبلشنگ کا سلسلہ شہر زار تھا۔ اس حوالے سے ان کا رسالہ دنیا زار بہت مقبول ہوا کہ اس میں دنیا بھر کی اچھی کہانیاں اردو میں ترجمہ ہو کر چھپتی تھیں ان دنوں تو وہ دوستوں سے وبا کے دنوں کے حوالے سے نظمیں کہلوا رہے تھے۔ وبا کے دنوں کا ادب سمیٹتے ہوئے وہ خود ہی چلے گئے: زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں سوگئے داستان کہتے کہتے وہ کراچی یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن ہوئے جہاں علم و ادب کے کئی شہسوار ابدی نیند سو رہے ہیں۔میں ذکر کر چکا ہوں کہ وہ بہت اچھے منتظم تھے، خاص طور پر ایک موقر ادارے کی طرف سے کتب کی نمائش ہوتی تو اس کے انتظام و انصرام میں وہ بہت پیش پیش ہوتے۔ ایسے کتب میلے سمندر کے کنارے بھی لگائے گئے ایک کتاب میلے میں تو میں بھی انور شعور صاحب کے ہمراہ گیا۔ میں اتفاقا ًوہاں تھا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی دعوت پر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے منعقدہ جرگے میں گیا تھا۔ بہرحال کراچی کی ان ادبی سرگرمیوں کو چار چاند لگانے والوں میں آصف فرخی کا بہت ہاتھ تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ادب کو اوڑھے ہوئے تھے۔ یہاں خالد احمد کی بات یاد آئی کہ اکثر کہتے شاعری سعداللہ شاہ کا مسئلہ ہے۔ تو جناب یہ شوق جنوں بنتا ہے تو مسئلہ بن جاتا ہے ۔ ہم نے بھی اب وارفتگی کا زمانہ گزارا ابھی احمد ندیم قاسمی کی محفل میں بیٹھے ہیں اٹھے تو منیر نیازی کی طرف جائیں گے۔ کبھی شہزاد احمد کے پاس ان کی بڑی سی لائبریری میں چانے پینے لگے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کام 24گھنٹے کا ہے اور بقول سلیم احمد کہ شاعری پورا آدمی مانگتی ہے ادب میں ہے ہی ایسے۔ آصف فرخی کل وقتی ادیب تھے۔ آخر میں مجھے تذکرہ کرنا ہے ہمارے لاہور کے ایک درویش صفت شاعر ظہیر احمد کا کہ وہ عجز و انکسار کا مجسمہ تھے۔ دو شعری مجموعے ان کے آئے ، نوشاہی سلسلہ سے بیعت تھے۔ سانحہ یہ ہوا کہ انہوں نے پوسٹ لگائی کہ ان کا بیٹا ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔ ہم نے فوراً جوابا ًدعائیہ جملے لکھے۔ ایک ہی روز بعد پتہ چلا کہ وہ خود بھی اس صدمہ کی تاب نہ لا کر چل بسے۔