اسلام آباد(وقائع نگارخصوصی)سینٹ کو آگاہ کیا گیاہے کہ4 سالوں کے دوران 37ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے ، موجودہ حکومت سی پیک کے مغربی روٹ کو ترجیح دے رہی ہے ،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جب حتمی شکل اختیار کرینگے تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینگے ۔منگل کو سینٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ستمبر 2018ء سے جنوری 2019ء تک 1681ملین ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے ، جن میں چین سے 700ملین ڈالر ،فرانس سے 15ملین ڈالر اور جاپان سے 26ملین ڈالر قرضہ لیا گیا ،کمرشل بینکوں سے 429ملین ڈالر قرضہ لیا گیا جبکہ 511ملین ڈالر کے کثیرالجہتی قرضے حاصل کئے گئے ،موجودہ حکومت نے ستمبر 2018سے جنوری 2019تک 1185ارب روپے کے ملکی قرضے لئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایس بی پی کی ادائیگیوں کے توازن میں مدد کیلئے سعودی عرب سے 3ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر حاصل کئے گئے ہیں۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ میں کتنا قرضہ لیا گیا ہے ، کیا تاریخ میں کسی حکومت نے پہلے 6 ماہ میں اتنا بڑا قرضہ لیا ہے ۔ جس پر وزیر مملکت نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومت کے اس عرصہ کے مقابلے میں بیرون ملک سے آدھے سے بھی کم قرضہ لیا اور سابق دور حکومت کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے قرضہ لیا ہے ۔رمضان المبارک میں رمضان بازار اوردیگر اقدامات کئے جائینگے ۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2017ء میں مہنگائی کی شرح 3.82 فیصد، اکتوبر 2018ء میں 6.78 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2018ء میں کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی میں 0.90 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ حماد اظہر نے کہا کہ اپوزیشن ایوان میں معیشت سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کررہی ہے ،ن لیگ کی حکومت نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا جس کی وجہ سے ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ،حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک جلد ہی معاشی بحران سے نکل آئیگا۔وزیر منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے بتایا کہ موجودہ حکومت سی پیک کے مغربی روٹ کو ترجیح دے رہی ہے ،کاشغر کو گوادر سے منسلک کرنے کیلئے مغربی روٹ پر کام ہو رہا ہے ۔میگا منصوبوں کے جائزہ اور نگرانی کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے ۔ موجودہ مالی سال 2018-19کے پہلے 8 ماہ کے دوران کاروں کی فروخت میں کمی ہوئی ہے ۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ پانی کی بوتلوں کے 6برانڈزغیر محفوظ ہیں جن پر پابندی عائد کرنے کا کہا ہے ۔ سینیٹ میں وزرا کے عدم موجود گی پر اپوزیشن جماعتوں کے اعتراض پر مجبورا ًکارروائی 15منٹ ملتوی کرنا پڑی ۔ڈپٹی چیئرمین نے قائد ایوان سینٹ شبلی فراز اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان کو ہدایت کی کہ وزرا کی اجلاس میں بروقت شرکت کو یقینی بنایا جائے ۔