اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)اوجی ڈی سی ایل کی جانب سے بلوچستان کے علاقے اوچ کی اضافی اراضی کے کرایہ کی مد میں 77کروڑ روپے ادائیگی کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا ہے ۔ ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل شاہد سلیم کی جانب سے 77کروڑ روپے کے چیک اورمعاہدے کی منظوری دینے سے انکار کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ جی ایم فنانس محمد عظیم کی جانب سے 6جولائی کوایم ڈی اوجی ڈی سی ایل شاہد سیلم خان کی منظوری کیلئے نوٹ ارسال کیا گیا۔ نوٹ میں یکم جولائی کو 77کروڑ روپے مالیت کے جاری ہونے والے تین چیکس کی منظوری کی درخواست کی گئی۔ ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل نے فائل پر نوٹ لکھتے ہوئے منظوری دینے سے انکار کردیا۔ ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل کے انکارکے باعث شا زین بگٹی کو ملنے والا چیک باونس ہوگیا۔ ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل شاہد سلیم کی زبانی ہدایت پر رات تین بجے چیک جاری کیا گیا تھا۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے افسران پریشان،اختیارات کے غلط استعال پر نیب انکوائری کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔92 نیوز کوموصول دستاویز کے مطابق ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل کی جانب سے جنرل منیجر(سی ایس آر) اور اپنے سیکرٹری کے ذریعے دی گئی ہدایات کے پیش نظر یکم جولائی2020کو اوچ گیس فیلڈ کے مالکان کو چیک جاری کیے گئے ۔نوابزادہ شا زین بگٹی کو چیک نمبر 21506833کے ذریعے 25کروڑ 77لاکھ56ہزار 931روپے جاری کیے گئے ۔گہرام بگٹی کو چیک نمبر 21506836جبکہ میر چاکر بگٹی کو چیک نمبر21506837کے ذریعے ادائیگی کی گئی۔فنانس اینڈ اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ کو معاملے کی حساسیت کے پیش نظر جلد چیک جاری کرنے کی ہدایت کی گئی اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ معاملے کی کیس فائل،معاہدہ اور دیگر ضروری اجازت نامے جلد فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کر دیے جائیں گے تاہم تاحال کیس فائل،معاہدہ اور دوسری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں جس کے باعث اکاؤنٹنگ کی دستاویزات نامکمل ہیں۔ فنانس اینڈ اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ کو جلد سے جلد تمام دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آڈٹ اور اکاؤنٹنگ کیلئے ادائیگی کی دستاویزات تیار کی جا سکیں۔ ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اس نوٹ کے جواب میں لکھا ہے کہ یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے ۔میری جانب سے جی ایم فنانس کو چیک جاری کرنے سے متعلق کوئی ہدایات نہیں دی گئیں اور نا ہی میری جانب سے جی ایم (سی ایس آر) اور سیکرٹری کے ذریعے چیک جاری کرنے کی ہدایات دی گئیں۔مجھے آگاہ کیا گیا کہ جی ایم فنانس کی جانب سے اوچ اراضی سے متعلق چیک تیار کیے جا رہے ہیں جس کے بعد میں نے ان چیکس کے بارے میں جی ایم فنانس سے وضاحت طلب کی۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکومتی شخصیت کی ہدایت پر ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل شاہد سلیم خان نے شا زین بگٹی کو اوچ میں 2ہزار500کینال اراضی کا کرایہ 36فیصد اضافے کیساتھ ادا کرنے کیلئے نیا معاہدہ کروایا جس کے نتیجے میں شاہ زین بگٹی کو یکم جنوری 2018سے 79ہزار روپے فی ایکڑ کے ریٹ پر ادائیگی یکم جولائی کو بذریعہ چیک ادائیگی کی گئی۔ یہ زمین فروری 2017سے اوجی ڈی سی ایل کے زیر استعمال نہیں رہی۔ سابق ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل زاہد میر نے 2016 میں 1ہزار300ایکڑ اراضی کی لیز برقرار رکھتے ہوئے 2ہزار500ایکڑ اراضی سرنڈر کردی تھی۔ اضافی ارضی اوجی ڈی سی ایل پر سالانہ کروڑوں روپے بوجھ تھی۔ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل شاہد سلیم خان کے اقدام کے نتیجے میں قومی خزانے پر8ارب روپے بوجھ ڈال دیا گیاہے ۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل کی سرزنش کے نتیجے میں شاہ زین بگٹی کو 7جولائی کو نیا چیک جاری کیا گیا ہے ۔ پہلے جاری ہونیوالے چیک منسوخ کردئیے گئے ہیں۔ترجمان اوجی ڈی سی ایل کے مطابق یکم جولائی کو جاری ہونے والے 77کروڑ روپے مالیت کے چیک کی منظوری ایم ڈی اوجی ڈی سی ایل کے علم میں نہیں تھی تاہم اس معاملے کو کمپنی قواعد وضوابط کی روشنی میں دیکھا جارہا ہے ۔