لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق ڈپٹی ڈی جی سول ایوی ایشن عابد رائو نے کہا ہے پائلٹ نے اگر مے ڈے کال دی تو پھر پوزیشن ضرور خراب ہوئی ہوگی، یہ بات تو انویسٹی گیشن ٹیم دیکھے گی کہ جہاز کی کوئی چیکنگ تو نہیں ہونے والی تھی،جہاز مکمل مینٹی ننس سے ہی اڑتا ہے ،جہاز کی دس سال کوئی عمر نہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ اس کی فٹنس کیسی تھی ، کہیں یہ جہاز لیز پر تو نہیں تھا،افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس واقعہ میں بڑی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اورشہری آبادی کا بھی نقصان ہوا۔پروگرام92ایٹ 8میں اینکر پرسن شازیہ سے گفتگو میں انہوں نے کہاجب جہاز کے پہیے نہیں کھل رہے تھے تو اسی لئے پائلٹ نے گو رائونڈ لیا، ہمارے ہاں انویسٹی گیشن ہوتی ہے مگر اسے پبلک نہیں کیا جاتا، انویسٹی گیشن سسٹم کو آزاد ہونا چاہئے ۔ پائلٹ کیپٹن خالد حمزہ نے کہامیں اس حادثے پر بہت دکھ اور درد محسوس کررہا ہوں، مشینری کسی وقت بھی خراب ہوسکتی ہے ، جہاز کو صرف اسی صورت میں ہی اڑایا جاتا جب وہ مکمل طور پر فٹ ہو،جہاز کو رسک کے ساتھ بھی اڑایا جاسکتا ہے ، انجیئنر جہاز کی ایک ایک چیز کو بڑی توجہ سے چیک کرتے ہیں،مے ڈے کال اس وقت دی جاتی ہے جب پائلٹ کے کنٹرول سے حالات باہر ہوچکے ہوں،جہاز کے انجن میں کوئی گڑبڑ ضرور تھی۔وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا مرنے والوں کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،متاثرین کو تمام سہولیات فراہم کرینگے ، لاشوں کی شناخت نہیں ہورہی ، ڈی این اے ٹیسٹ کرینگے ۔ڈائریکٹر جناح ہسپتال کراچی ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا ہمارے پاس جو ڈیڈ باڈیز آئی ہیں وہ 35ہیں،صرف 5لوگوں کی شناخت ہوسکی ، ہم ان کی ڈی این اے سیمپلنگ کررہے ہیں،۔کپٹن سجاد کو بھی ہمارے ہسپتال میں ہی لایا گیا ،ہمارے پاس جہاز کا کوئی مسافر زخمی حالت میں نہیں آیا۔