لاہور،اسلام آباد (نمائندہ خصوصی سے ،92 نیوز رپورٹ) اہم اداروں نے حکومت سے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی آڑ میں دہشتگردی کے خدشے کا اظہار کردیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حکومت مخالف آزادی مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد حکومت اور اہم ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔دہشتگردی کا خدشہ سامنے آنے پر حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دینے پر غور کیا جارہا ہے ۔تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں آزادی مارچ کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں وزیراعظم اہم اداروں سے مشاورت کیلئے اجلاس طلب کرینگے ۔علاوہ ازیں وفاقی وزارت داخلہ نے صوبوں سے مولانا فضل الرحمٰن کے حمایتی مدارس،انکے اساتذہ اور طلبا کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا ساتھ دینے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی لسٹیں بھی طلب کر لی گئی ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ’’میں نہ مانوں‘‘ کی ضد اور 27اکتوبر کے دن کا انتخاب کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان بھی اب ان کو رعایت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بعض اہم اداروں نے حکومت کو آزادی مارچ سے متعلق آگاہ کیا کہ اس میں مخصوص مکاتب فکر کے افراد شامل ہونگے ،اگر دہشتگردی کی کارروائی ہوئی تو مسلکی تصادم کا بھی خدشہ موجود ہے جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔