ڈاکٹر صاحب نے کہا: بلا سو د معیشت اور قرضے ممکن ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں دینے والوں کی کمی نہیں اور غریب آدمی بھیک نہیں ، محنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم جانتے نہیں ، ہم جانتے ہی نہیں۔ تیس پینتیس برس کا وہ آدمی موٹر سائیکل پہ سوار تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بزرگ خاتون تشریف فرما۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اس نے سلام کیا اور بتایا کہ ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ان کے دفتر تک پہنچا ہے۔ خاتون کے ہاتھ میں چھوٹا سا ایک بیگ تھا۔ یہ بیگ اس نے ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا اور بتایا کہ اس میں پچیس لاکھ روپے موجود ہیں۔ غیر سودی بینکوں کے ادارے "اخوت " کے لیے ایک اور عطیہ۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایک سے بڑا ایثار کیش انہیں ملتا ہے۔کراچی سے چترال اور لاہور سے نیو یارک تک ہزاروں لوگ ان کے مددگار ہیں۔ پھر بھی لیکن کبھی کوئی چونکا دینے والا واقعہ پیش آتا ہے۔ شلوارقمیض میں ملبوس اس آدمی کا کہنا تھا کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ ڈاکٹر صاحب مخمصے کا شکار تھے کہ بینک میں پیسے جمع کرانے کا وقت تمام ہو چکا تھا۔ رسیدکا ذکر ہوا تو وہ بولا:پروردگار کی امانت ہے، اس کے سپرد کر دی، رسید سے کیا لینا دینا۔  حیرت زدہ، انہوں نے اندازہ لگایا کہ درمیانے نچلے طبقے سے اس کا تعلق ہے۔ انہوں نے پوچھا:امڈتے ہوئے سرما کی، لاہور کی اس دھند میں ، بھیڑ بھاڑ میں ، کیا اسے اندیشہ محسوس نہ ہوا؟ اس نے کہا:اندیشہ کیسا۔ ہمارے پیسے تھوڑا ہی ہیں۔ مالک کے ہیں اور وہ حفاظت فرمانے والا ہے۔  اپنے ہمیشہ کے حلیم لہجے میں ،قدآور درختوں کے جھنڈ کے پاس، ڈوبتی شام میں ڈاکٹر صاحب رسان سے ایک دن پہلے پیش آنے والا واقعہ سناتے رہے۔ سامع کا ذہن بھٹکا اورانیسویں صدی کے آخری برسوں میں جا پہنچا۔ مرزا غلام احمد سے مناظرہ کرنے کے لیے خواجہ مہرِ علی شاہ گولڑہ شریف سے لاہور روانہ ہوئے۔ گوجر خان کے ریلوے سٹیشن پر، ایک مرید ان کے ڈبے میں داخل ہوا۔ یہ دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا کہ خواجہ اکیلے تھے۔ انگریزی عہد اور ان کی خود کاشتہ نبوت۔ وہ اس کے نگہبان اور سرپرست تھے۔ انہیں خوف کیوں محسوس نہ ہوا؟’’آپ تنہا جاتے ہیں ؟ اپنی حفاظت کا بندوبست کیا ہوتا۔‘‘خواجہ کا جواب چونکا دینے والا تھا:اپنی خاطر نہیں جارہا۔ جس کے لیے روانہ ہوں ، وہ جانے اور اس کا کام۔  خدا کی بستی عجیب ہے۔ دھن دولت کے لیے آدمی رسوا ہوتے ہیں۔ پندار کا صنم کدہ ویران کرتے ہیں۔ ایسے متوکل بھی مگر ہوتے ہیںکہ یکسر بے نیاز۔ جان لیتے ہیں کہ رزق آدمی کو خود تلاش کرتاہے، موت سے زیادہ شدّت کے ساتھ۔ جان لیتے ہیں کہ زمین پر سانس لینے والی تمام مخلوقا ت کی پرداخت کا ذمہ پروردگار نے لے رکھا ہے۔ جانتے ہیں کہ صدقے سے مال بڑھتاہے، کم نہیں ہوتا۔ مختصر سی زندگی اور پھر ابدی حیات، جہاں عمل کا ایک ایک ذرہ گن لیا جائے گا، دکھا دیا جائے گا۔  جن سے مل کر عشق ہو جائے، وہ لوگ  آپ نے دیکھے نہ ہوں گے، ہاں مگر ایسے بھی ہیں  ایک واقعہ ڈاکٹر صاحب نے کئی بار سنایا۔ پچھلے برس ڈیڑھ کروڑ روپے کے انعامی بانڈکسی نے ان کے حوالے کیے اور یہ کہا کہ ایثار سے سنبھال رکھے ہیں۔ ممکن ہے، کوئی انعام بھی نکلا ہو۔ دیکھ لیجیے گا۔ ایک بانڈ پر پچپن لاکھ روپے کا انعام نکلا۔ یہ بھاری رقم لے کر ڈاکٹر صاحب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ امانت اس کے سپرد کر دیں۔ اس نے انکار کر دیا۔ بولا تو یہ بولا: یہ برکت انہی کاغذوں  میں سے طلوع ہوئی۔ اسی کا حصہ ہے۔ تاکید اس کی بھی یہی تھی کہ اس کا نام کسی کو بتایا نہ جائے۔  بیشمار کردار ہیں ، ایسے بہت سے واقعات۔ ایک، دو، چارنہیں ، سینکڑوں اور ہزاروں۔ درجنوں ایسے ہیں کہ ایک ٹیلی فون کال کے منتظر رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے کہہ رکھا ہے کہ جب بھی جتنے روپوں کی ضرورت ہو، مطلع کردیجیے۔ ان میں ایک گروپ آف کالجز کا سربراہ شامل ہے، جو ا ب تک کم از کم بیس پچیس کروڑ روپے پیش کر چکا۔ بڑھتے بڑھتے اب وہ ایک برگد بن چکا ہے۔بظاہر ایک دنیا دار  آدمی لیکن سینکڑوں اور ہزاروں کو پالتا ہے۔ داد کا طالب نہیں ہوتا، چرچانہیں کرتا۔ قصور میں نودیہات کے چھوٹے کاشتکاروں کو پندرہ بیس کروڑ قرض دے چکا۔ ان کی زندگیاں جس سے یکسر بدل گئی ہیں۔لگ بھگ دو برس ہوتے ہیں ، ان دیہات کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ صاف ستھری گلیاں ، صاف ستھرے لباس، صاف ستھرے لوگ۔ شرح خواندگی سو فیصد۔ سکولوں میں بچوں کا داخلہ سو فیصد، بے روزگاری برائے نام۔ پنچایت مسجد میں ؛چنانچہ گھٹتے گھٹتے باہمی جھگڑے برائے نام رہ گئے۔ چمکتے ہوئے درو دیوار اور غنی لوگ۔ میلوں پہ محیط اس پورے علاقے میں کوڑے کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا۔ بالیدگی اور نجاست باطن میں ہوتی ہے۔ باطن میں روشنی کاشت کر دی  جائے اور پھلنے پھولنے لگے تو گرد و پیش میں بھی تاریکی تحلیل ہونے لگتی ہے۔ کراچی سے پیپلز پارٹی اور ایم کیوا یم کے لیڈروں کو پکڑ کر لایا جائے، انہیں دکھایا جائے کہ گلیوں اور بازاروں میں اور دلوں  اوردماغوں  میں روشنی کیسے پھوٹتی اور پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اگلے ماہ "اخوت "ایک سو ارب روپے کے غیر سودی قرضے جاری کرنے کا ہدف حاصل کر لے گی۔ وصولی اب سو فیصد ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے پوچھا۔ ابھی کل تک تو یہ 96.6فیصد تھی۔ بولے لینے والوں میں سے بہت سے اب دینے والے بن چکے۔" اخوت "سے قرض لینے والے سینکڑوں ، ہزاروں اب چھوٹے چھوٹے عطیات بھیجتے ہیں۔ بولے: ادارے کے پانچ ہزار ملازم ہیں۔ایسی اچھی تربیت اب ان کی ہو چکی کہ کوئی نئے کرنسی نوٹ دے تو بدلتے نہیں۔ یہ انہیں سکھایا گیا ہے۔ پھر ایک لمحہ تامل کے بعد اضافہ کیا: اپنی قوم پر ہم نے کبھی اعتماد ہی نہ کیا۔ ہم نے کبھی انہیں سکھایا ہی نہیں۔ سکھانے سے آدمی سیکھتے ہیں ، تربیت سے سنورتے ہیں۔ ملک میں ایسے اب بہت سے ادارے ہیں ، فیاضی سے لوگ جن کی مدد کرتے ہیں۔ پھر وہ مسکرائے اور کہا: اب تو حکومتیں بھی مہرباں ہیں، پنجاب کی، گلگت بلتستان کی۔امید ہے، چند دن میں پانچ ارب روپے وفاقی حکومت دے گی۔ پچاس لاکھ گھر تو جب بنیں گے، تب بنیں گے۔"اخوت "دس ہزار چھوٹے مکان انشااللہ آٹھ نو ماہ میں تعمیر کر دے گی۔" اخوت "کے اپنے طبی نظام کے تحت اب تک ذیابیطس اور دوسری بیماریوں کے شکار تین لاکھ سے زیادہ مریضوں کو سستے اور معیاری علاج کی سہولت مہیا کی جا چکی۔ فیصل آباد میں جدید ترین بائیو ٹیکنالوجی کالج۔لاہوراور قصور کے سنگم پر اخوت کالج یونیورسٹی۔ چکوال میں چھ سو سے زیادہ طالبات کے لیے ڈگری کالج۔ ان سب میں تمام صوبوں کے طلبہ فیس کے بغیر زیرِ تعلیم ہیں۔ "اخوت" کے زیرِ انتظام تین سو سکولوں میں پچاس ہزار سے زائد بچوں کی تدریس۔" اخوت کلاتھ بینک "کے ذریعے بائیس لاکھ خاندانوں کی تن پوشی۔ دو ہزار سے زیادہ خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے لیے ماہانہ وظیفہ اور صحت کی مفت سہولت۔ اب "اخو ت فوڈ بینک "کی تیاری ہے۔  ڈاکٹر صاحب نے کہا: بلا سو د معیشت اور قرضے ممکن ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں دینے والوں کی کمی نہیں اور غریب آدمی بھیک نہیں ، محنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم جانتے نہیں ، ہم جانتے ہی نہیں۔