لاہور(محمد نواز سنگرا)ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے پنجاب حکومت گندم خریداری کی مد میں 494ارب روپے کی کمرشل بینکوں کی مقروض ہو گئی ۔روز نامہ 92نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق حکومت گندم خریداری کیلئے قرض کی اصل رقم بینکوں کو لوٹانے میں ناکام رہی ہے تاہم ہر سال بھاری مارک اپ بھی ادا کیا جاتا رہا۔گزشتہ دس برسوں میں مختلف کمرشل بینکوں سے لی گئی قرض کی رقم 52ارب روپے سے بڑھ کر 494ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ دس برسوں میں بینکوں کو حکومت 257ارب روپے مارک اپ ادا کر چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت گندم خریداری کیلئے قرض لیتی ہے مگرگندم ریلیز ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے بینکوں کو اصل رقم واپس نہیں کی جاتی جس سے قرض کی رقم میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق 2009میں ویٹ پروکیورمنٹ کیلئے لیا گیا مجموعی قرض 52ارب تھا،اس سال 45ارب کی رقم واپس کی گئی ،6ارب روپے بقایا جبکہ 143ارب روپے کے نئے قرض لیکر کل قرض 149ارب تک پہنچا دیا گیا۔2010میں 149ارب میں سے 47ارب ادا کئے گئے ،102ارب روپے بقایا جبکہ 88ارب روپے کے مزید قرض سے کل رقم 191ارب تک پہنچ گئی۔ 2011میں 191ارب روپے میں سے 101ارب روپے ادا کر دیئے گئے 90ارب روپے بقایا جبکہ 76ارب روپے کے مزید قرض سے رقم 166ارب تک پہنچ گئی ۔ 2012میں 166ارب میں سے 56ارب ادا کر دیئے گئے جبکہ 110ارب روپے بقایا 73ارب روپے مزید قرض لینے سے رقم 183ارب روپے پہنچ گئی۔ 2013میں 183ارب میں سے 104ارب ادا کئے گئے 79ارب بقایا 110ارب نیا قرض لیا گیا جبکہ کل رقم 189ارب تک پہنچ گئی۔2014میں 189ارب میں سے 97ارب واپس 92ارب بقایا 112ارب کے نئے قرض جبکہ کل رقم 204ارب تک پہنچ گئی۔ 2015میں204ارب میں صرف 39ارب ادا کئے گئے 165ارب روپے بقایا 105ارب نئے قرضے لینے سے رقم 271ارب تک پہنچ گئی۔ 2016میں کل قرض میں سے 75ارب روپے اد ا کئے گئے ،195ارب روپے بقایا رقم تھی جس میں 128ارب روپے کے مزید قرض لینے سے کل قرض 324ارب ہوگیا۔2017میں 324ارب میں سے 100ارب ادا کئے گئے جس کے بعد 224ارب روپے بقایا بچ گئے جس میں 128ارب مزید قرض لینے سے مجموعی رقم 351ارب ہو گئی۔2018میں کل قرض میں سے صرف 22ارب ادا کئے گئے جبکہ 328ارب روپے بقایا تھے جس میں سے 118ارب نیا قرض لیکر کل رقم 446ارب تک پہنچا دئی گئی۔ 2019میں 446ارب میں سے 127ارب ادا کئے ،319ارب روپے بقایا تھے جس میں 108ارب مزید قرض لیا گیا اور مجموعی قرض 428ارب ہوگیا ۔ 2020میں 427ارب روپے میں سے محض91ارب ادا کئے گئے ،336ارب روپے بقایا قرض اور 157ارب مزید قرض لئے گئے جو رقم 494ارب روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب حکومت نے 2009میں 4ارب،2010میں 19ارب،2011میں 25ارب،2012میں 23ارب،سال2013میں 20ارب،سال2014میں 16ارب،سال 2015میں 20ارب،سال 2016میں 18ارب،سال 2017میں 14ارب،سال2018میں 21ارب،سال2019میں35ارب اور سال 2020میں 41ارب روپے مارک اپ کی مد میں ادا کئے گئے ۔