اسلام آبا د،لاہور(وقائع نگار خصوصی،خبر نگار،نامہ نگارخصوصی، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن نے غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے سے متعلق کیس میں عمران خان ،سردار ایاز صادق اور پرویز خٹک کی غیر مشروط معافی قبول کر لی جبکہ تینوں کو وارننگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ ایسی زبان برداشت نہیں کی جا ئیگی ۔سماعت کے دوران ایاز صادق کے وکیل نے کہا کہ جب بندہ تقریر کر رہا ہوتا ہے تو تھوڑی بہت غلطی ہو جاتی ہے ،میں معافی مانگنا چاہتا ہوں،انہوں نے یہ جان بوجھ کر نہیں بولا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس میں کہا کہ ایاز صادق ہمیں ہماری اوقات دکھا رہے تھے لیکن آج وہ دیکھ لیں کہ ان کی کیا اوقات ہے ۔ سماعت کے دوران پرویز خٹک کی جانب سے میڈیا پر اپنے بیان کی معافی مانگنے کا کلپ بھی کمیشن کودکھا یا گیا جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کے وکیل بھی پیش ہوئے اور تحریری معافی نامہ جمع کرایا۔الیکشن کمیشن نے پر ویز خٹک اور ایاز صادق کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے کامیابی کے نوٹیفکیشن کلیئر کر دیئے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 35بنوں، این اے 95میانوالی اور این اے 243 کراچی سے کامیابی کے نوٹیفکیشن کلیئر کر دیئے اور سپریم کورٹ کے حکم پر این اے 131لاہور سے بھی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے جبکہ این اے 53سے ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے کے از خود نوٹس میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان کا جواب مسترد کرتے ہوئے عمران خان سے ان کے دستخط شدہ تحریری جواب اور معافی نامہ آج طلب کر لیا ۔بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کے ووٹ کی تصویر میڈیا کے کیمروں نے لی ۔ ووٹ ڈالتے وقت بہت رش تھا، پولنگ سٹیشن کی میزیں ٹوٹ گئیں، سکرینیں بکھر گئیں۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ہدایت کی کہ وہ کل اپنے دستخط سے بیان حلفی جمع کرائیں۔این اے 53 اسلام آباد سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کیس کے فیصلے تک جاری نہیں ہو گا۔ ادھر عمران خان کے حلقہ این اے 243 کراچی میں انتخابی نتائج میں تاخیر سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی۔ نجی ٹی وی کے مطا بق ریٹرننگ افسر نے بروقت انتخابی نتائج مرتب نہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ رات دو بجے تک پولنگ سٹیشنز سے عملہ پہنچا اور نہ انتخابی نتائج، جس کی وجہ سے رات 2 بجے تک بھی پولنگ سٹیشنز کے نتائج نہیں تیار کرسکا۔ الیکشن کمیشن نے این اے 90 سے مسلم لیگ ن کے محمد حامد حمید ،این اے 108 سے تحریک انصاف کے فرخ حبیب، این اے 140 قصور سے تحریک انصاف کے سردار طالب حسن ،پی کے 4سے تحریک انصاف کے عزیزاﷲ خان ،پی بی 36 سے آزاد امیدوار میر نعمت اﷲ زہری کی کامیابی کے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیئے ہیں ۔ پنجاب کے حلقہ پی پی 123سے تحریک انصاف کی کامیاب امیدوارسونیا رضا ہائیکورٹ کے حکم پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں 19ووٹ سے ہار گئیں۔ وہ (ن) لیگی امیدوار قطب علی شاہ سے صرف 70ووٹوں کے فرق سے کامیاب قرار پائی تھیں،حلقے کی دوبار ہ گنتی پر کامیابی کا فارم49جاری کردیا گیا ہے ۔گزشتہ روز ہی سونیارضا نے دوبارہ گنتی کا ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میںبھی چیلنج کیا تھا۔ادھر لاہورہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کے امید وار مہر اشتیاق کی حلقہ این اے 126 میں دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی ہے ۔ ہائیکورٹ نے این اے 118 میں دوبارہ گنتی کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ہائیکورٹ نے عابد شیر علی کی این اے 108میں دوبارہ گنتی کیلئے درخواست مسترد کئے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا اور قرار دیا کہ درخواست گزار قانون کے مطابق متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے ۔ ہائیکورٹ نے مختلف قومی و صوبائی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر پیر محمد اشرف بودلہ، عامر حیات ہراج اور ڈاکٹر نادیہ عزیز کی انٹرا کورٹ ا پیلیں مسترد کر دیں۔