اسلام آباد سے روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے بعد ایران اور عالمی مارکیٹ سے غیر معیاری ایل پی جی درآمد کرنے کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ درآمدی ایل پی جی پر پٹرولیم لیوی کی مکمل چھوٹ اور 7فیصد کم جی ایس ٹی عائد ہونے کی بنا پر ملکی ایل پی جی کی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ملکی و قومی سطح کے کسی بھی معاملے پرمشاورت نہیں کی جاتی اور پھر جب کسی معاملے کے نقائص سامنے آتے ہیں تو ہماری آنکھیں کھلتی ہیں۔ متذکرہ معاملے میں بھی یہ ہو اہے کہ ایران اور عالمی مارکیٹ سے غیر معیاری ایل پی جی کی درآمد کے ذریعے ایک طرف تو لیوی اور جی ایس ٹی کی مد میں قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے اور دوسری طرف او جی ڈی ایس ایل اور مقامی طور پر ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیاں اوگرا کے متعین کردہ ریٹ سے کم قیمت پر ایل پی جی فروخت کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے او جی ڈی ایس ایل کو ڈسپوزل کے مسائل کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے اس معاملے سے ہر گز چشم پوشی نہ کی جائے کیونکہ ایسے معاملات کو نظر انداز کر نے سے ہی بعد ازاں بحران جنم لیتے ہیں۔ لہذا ناقص اور غیر معیاری ایل پی جی کی درآمد فوری طور پر روکی جائے اور قومی خزانے اور ایل پی جی کی مقامی مارکیٹ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کا فوری تعین کر کے انہیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کی جرأت نہ ہو سکے ۔