لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ نااہل لوگوں نے قومی اداروں کو تباہ کیا، ہماری حکومت کو ہر چیز خسارے میں ملی، ہمارے پاس جو روٹس ہیں انکے حساب سے پی آئی اے کو دنیا کی مقبول ترین کمپنی ہونا تھا، پی آئی اے کے نئے سربراہ بہت اچھے ہیں، انہوں نے 13 سے 15 ماہ میں کھڑے ہوئے طیاروں کو ٹھیک کرکے اڑا دیا۔ ہم نے وی آئی پی کی مد میں 6ارب روپے بچائے ہیں۔ہم پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ اگلے ہفتے جمع کرا رہے ہیں۔حکومت اور تاجر برادری پارٹنرز ہیں، ہڑتال کوئی حل نہیں ۔سابق ڈائریکٹر پلاننگ پی آئی اے ارشاد غنی نے کہا 1991 میں ایوی ایشن پالیسی بنائی گئی جس سے پی آئی اے کی تباہی شروع ہوئی، لبرل پالیسی کی آڑ میں اوپن سکائی پالیسی کی گئی،پی آئی اے کے فیصلے باہرسے ہوتے رہے ،جب سے نئی انتظامیہ آئی ہے ڈسپلن آرہاہے ۔ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا پی آئی اے کی مالی تباہی گزشتہ دس سالوں میں ہوئی ، 61 سالوں میں پی آئی اے کا 70 ارب کانقصان تھا لیکن دس سالوں میں 400 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اب نئی انتظامیہ نے معاملات ٹھیک کئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس قسم کا بزنس مینجمنٹ نہیں بنایا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر مرزا اختیار بیگ نے کہا میں نے ہڑتال کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا،عمران خان اور انکی ٹیم نے ہمیں وقت دیا اور ہماری کافی چیزوں کو مانا ہے ،ہم وزیراعظم کو یقین دلاتے ہیں کہ فیڈریشن ان کیساتھ مکمل تعاون کریگی۔معروف بزنس مین زبیر موتی والا نے کہا ہم نے اپنے تحفظات وزیراعظم کو پیش کئے ،مسائل حل کی طرف جا رہے ہیں۔ جب تک معیشت کی ڈاکیومنٹیشن نہیں ہوگی معاملات ٹھیک نہیں ہونگے ۔اینکر پرسن سعدیہ افضال نے بتایا پی آئی اے قائداعظم کے حکم پر تشکیل پائی جو پہلے اورینٹ ایئرویز کے نام سے شروع ہوئی۔ 1962میں پی آئی اے کے پائلٹ کیپٹن عبداﷲ بیگ کی رہنمائی میں عالمی ریکارڈقائم کیا۔ لندن سے کراچی کی لگاتار فلائٹ 6گھنٹوں 43منٹ اور 51سیکنڈز میں مکمل کی۔ یہ دنیا کی پہلی واحد غیر کمیونسٹ فلائٹ تھی جو چین جاتی تھی۔ اس نے سب سے پہلے آٹو ٹکٹنگ کا نظام بھی متعارف کرایا۔ اس قدر ترقی کے بعد پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 411 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔2017میں اسے 45ارب روپے کا خسارہ ہوا جسکی ذمہ داری براہ راست اس حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔