اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمٰی نے زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو اس بارے اپنی تجاویز اٹارنی جنرل کے پاس جمع کرانے جبکہ صنعتوں کو اپنی تجاویز صوبائی حکومتوں کو دینے کی ہدایت کی ہے اور قرار دیا ہے کہ صوبائی حکومتیں کمپنیوں کی تجاویز اور ان پر اپنا موقف عدالت میں پیش کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ پانی کی قیمت کے بارے اپنے تحفظات تحریری صورت میں متعلقہ صوبائی حکومتوں کو فراہم کریں۔بدھ کو کیس کی سماعت ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتا یا پانی کی قیمت سے متعلق صوبوں سے تاحال سفارشات موصول نہیں ہوئیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہانہری پانی کے استعمال کی قیمت انتہائی کم وصول کی جاتی ہے ، نہری پانی کی کم قیمت وصولی ہونے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہے جو سو رہی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کمپنیاں جہاں سے پانی نکالتی ہیں وہاں سو فٹ تک ہوا بھی نہیں ملتی ۔جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہالگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال بن رہی ہے ۔ خیبر پختون خوا کے وکیل نے عدالت سے سختی نہ کرنے کی استدعا کی۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ جب تک کیبنٹ منظوری نہیں دیتی اس وقت تک ہم کوئی بھی تجویز اٹارنی جنرل کو نہیں بھیج سکتے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کے جو بھی تحفظات ہیں، اٹارنی جنرل کو بھیجیں، تین صوبے متفق ہو چکے ہیں صرف سندھ حکومت نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔وکیل پنجاب حکومت فیصل چودھری نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں 75 فیصد پانی کے میٹر لگ چکے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سندھ میں میٹرز کاکتنا کام ہو ہے ،لگتا ہے گورنمنٹ آف سندھ اور کمیٹی چیئرمین ڈاکٹر احسن صدیقی میں کوئی ناراضگی ہے ؟۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ایک لٹر پانی 50 روپے کا سیل کرتے ہیں، اس50 روپے میں سے ایک روپیہ آپ حکومت کو دیں۔مشروبات کمپنیوں کے وکیل علی ظفر نے کہا ایک لٹر پر ایک روپیہ زیادہ رقم ہے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاجو پانی آپ زمین سے نکالیں گے پیسے تو اس کے چارج ہوں گے ۔