اسلام آباد(سٹاف رپو رٹر،92 نیوز رپورٹ، این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈکرپشن ریفرنسز کی اپیلوں میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ضامنوں سخی عباس اور دو بیٹوں کو نوٹس جاری کردیئے ۔اسلام آبادہائیکورٹ نے العزیزیہ اورایون فیلڈریفرنسزمیں تحریری حکمنامہ جاری کردیا،نوازشریف کے ضمانتی مچلکے بحق سرکارضبط کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی۔دوران سماعت نیب کی طرف سے جہانزیب بھروانہ، مظفر عباسی اور دیگر جبکہ وفاق کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر اور ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ پیش ہوئے ۔دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان نے کہا19اکتوبر2020ء کو عدالتی احکامات ملے ، اسی روز ہائی کمیشن کو ایکشن لینے کیلئے لیٹرلکھا، نواز شریف کی رہائش کے باہر اشتہار چسپاں کرنے اور دیگر اقدامات کا کہاگیا،21اکتوبر کو اٹارنی جنرل سے تصدیق شدہ کاپی ملی جس پر اسی روز لندن ہائی کمیشن کو بھی خط لکھ دیا گیا، وہاں کے مقامی قانون کی کاپی بھی ہمراہ ہے ، 3نومبر کو وہاں سے جواب آیا، 9نومبر کو لندن سے فیکس پر عملدرآمد کا میسج آیا، 20نومبر کو رپورٹ عدالت میں جمع کرادی تھی، 30نومبر کو رائل میل کی رسیدیں وصول ہوئیں،اس موقع پر نوازشریف کے طلبی اشتہارکی تعمیل سے متعلق دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ عدالت نے استفسارکیا رجسٹرار آفس نے جو ٹیکسٹ آپ کو دیا تھا کیا یہ وہی ہے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا جی جو اشتہار ہے اس کا وہی ٹیکسٹ ہے جو رجسٹرار آفس نے ہمیں بھیجا تھا۔مبشر خان نے رائل میل کے ذریعے نوازشریف کو اشتہارات کی ترسیل کی تصدیق شدہ رسید بھی پیش کرتے ہوئے بتایاکہ رسید پر تاریخ اور دن بھی موجودہے ، نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے لیے اشتہار کی برطانیہ میں تشہیر سے متعلق دستاویزات پر اضافی دستاویزات اوررائل میل کے ذریعے تعمیل کرائے گئے شواہد عدالت میں پیش کئے گئے جن کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنادیاگیا۔بعدازاں گواہ اعجاز احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور نے حلف کے بعد بیان قلمبندکرایااور بتایاکہ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو 23 اکتوبر کو لیٹر ملا جس کی روشنی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق مسعود کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن لاہور گئے اور عملدرآمد کرایا، اشتہار آسان زبان میں تھا،نواز شریف کی رہائشگاہ کے باہر چسپاں کیا اور اسی روز شریف فارمز جاتی عمرہ بھی جاکر اشتہار چسپاں کرائے اور اعلانات بھی کرائے ،23اکتوبر کو رپورٹ جمع کرائی جس پر طارق مسعود اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے دستخط بھی ہیں، موقع پر بنائی گئی 10تصاویر بھی رپورٹ کے ہمراہ ہیں۔ گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے طارق مسعود نے حلف لیا اور بیان میں بتایا کہ جاتی عمرہ میں ملازمین محمدمنشا اور انوار سے بھی ملے اور آگاہ کیا۔جسٹس عامر فاروق نے کہا بھروانہ صاحب آپ کیا کہتے ہیں کیس کو کیسے آگے بڑھایاجائے ۔جہانزیب بھروانہ نے کہا اپیلوں میں سابق جج ارشد ملک کے خلاف متفرق درخواست دائر ہے ،جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ اپیلوں پر کیا کیا جانا چاہیے ،نیب پراسیکیوشن نے استدعا کی کہ نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز اپیلیں میرٹ پر مسترد کر دی جانی چاہئیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہاآج نہیں لیکن آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں، آئندہ سماعت پر عدالتی نظیریں پیش کریں کہ اشتہاری ملزم کی اپیل کا کیا کیا جانا چاہئے ۔جہانزیب بھروانہ نے کہانیب آرڈیننس کی شق31-A کے تحت عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کرنے پر نواز شریف کو الگ سے سزا ہو سکتی ہے ۔جسٹس عامر فاروق نے کہ اگر اس میں سزا ہو سکتی ہے تو اپیلوں میں بھی میرٹ پر فیصلہ ہو سکتا ہے ،آئندہ ہفتے مریم نواز اور کپٹن(ر) صفدر کی اپیلوں پر بھی سماعت ہے ، کیا نواز شریف کی اپیلوں کو بھی انہی اپیلوں کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کر دیں۔جہانزیب بھروانہ نے کہامریم نواز اور صفدر کی اپیلوں کا میرٹ بالکل مختلف ہے ،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا ایک ہی کیس میں فیصلہ ہے ، دونوں میں کیس تو پورا کھلے گا،عدالت نے ارشد ملک کا کنڈکٹ بھی تو دیکھنا ہے ،اس کے اثرات ڈائریکٹ فیصلے پر ہیں۔جہانزیب بھروانہ نے کہانواز شریف نے پانچ گواہ پیش کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے ، دوسری درخواست ناصر بٹ نے دائر کر رکھی ہے وہ بھی اشتہاری ملزم ہے ۔جسٹس عامر فاروق نے کہا ہم شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈر جاری کر دینگے ،کیا العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل کو الگ رکھا جائے یا اسی کے ساتھ؟۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا العزیزیہ ریفرنس اپیل مکمل طور پر الگ ہے ، اس کو الگ ہی دیکھنا چاہیے ۔جسٹس عامر فاروق نے کہا آپ اب اکیلے ہیں، آپ پر اب زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ دوسری طرف سے کوئی نہیں، آپ نے عدالت کی معاونت کرنی ہے ،کیا آئندہ سماعت پر آپ متفرق درخواستوں پر دلائل دیں گے ۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا مشرف کیس میں یہی عدالت ایک فیصلہ دے چکی ہے ،عدالت نے کہا جج ارشد ملک نے بھی ایک بیان حلفی دیا تھا جسے ہم نے انتظامی اختیارات میں ریکارڈ کا حصہ بنا دیا تھا۔جسٹس عامر فاروق نے کہا آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں کہ پہلے متفرق درخواست کو دیکھنا ہے یا اپیلوں کو، جسٹس عامر فاروق نے کہاملزم اگر مفرور ہو بھی گیا تو عدالت نے قانون تو دیکھنا ہے ، عدالت نے کیسز مریم نواز کی اپیلوں کے ساتھ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی۔