چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدمات کا مقررہ وقت کے اندر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ ناساز گار ماحول میں کام کرنے پر انہوں نے جج حضرات کی خدمات کو سراہا اور بتایا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران عدلیہ نے 34لاکھ مقدمات نمٹائے۔ ہمارے جج جتنا کام کر رہے ہیں دنیا میں اتنا کام کوئی نہیں کرتا۔ چیف جسٹس نے سول مقدمات میں پولیس کے کردار پر حیرت کا اظہار کیا اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ یہ معاملہ حکومت کے نوٹس میں لائیں۔ انہوں نے عدالتی نظام کو موثر بنانے کے لئے ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا اور انصاف کی تیز رفتار فراہمی کے لئے ماڈل کورٹس سے آگے جانے کا عزم ظاہر کیا۔ معاشرے جوں جوں آگے بڑھتے ہیں نظام اپنی صورت کو تبدیل کر کے سماج سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سماج میں عدل ختم ہو جائے تو بگاڑ پیدا کرنے والی گرہیں کھل جاتی ہیں۔ قانون کی بالادستی برقرار نہیں رہتی۔ طاقتور ہر مقام پر سچا اور کمزور ہر جگہ جھوٹا قرار پانے لگتا ہے۔ کئی معاشرے صرف اس لئے تباہ ہو گئے کہ وہاں انصاف کا نظام بالائی طبقات کا تحفظ کرتا اور نچلے طبقات پر ظلم کی اجازت دیتا تھا۔ ایک الگ وطن کا مطالبہ اس لئے مقبول ہوا کہ مظلوم افراد سب کے لئے مساوی قانون چاہتے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان میں اسلامی اصول نافذ ہوں گے اور نظام انصاف سب کے لئے ایک جیسا ہو گا۔ پاکستان وجود میں آیا تو نو برس بعد جا کر اسے اپنا آئین ملا۔ اس وقت تک آئین معطل ہوتے رہے جب تک طاقتور طبقات نے تمام قسم کے نظام ہائے سرکار پر اپنی گرفت مضبوط نہ کر لی۔1973ء کا آئین جس طرح بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی اصولوں کی پابندی کی ضمانت دیتا ہے وہ عملی شکل میں دکھائی نہیں دیتے۔ آئین کہتا ہے کہ قانون کی نظر میں ہر شہری مساوی ہے مگر معاشرے میں جو امتیازی رویہ پرورش پا چکا ہے وہ بتاتا ہے کہ چند سو روپے یا ہزار روپے چرانے والا برسہا برس جیل میں سڑتا رہتا ہے اور اربوں کھربوں لوٹنے والا پورے کا پورا نظام خرید لیتا ہے۔ ایسی ایک دو نہیں ہزاروں مثالیں ہیں کہ دولتمند اور سیاسی رسوخ والا مجرم قانون کے لمبے ہاتھوں کی رسائی میں نہ آ سکا۔ محترم چیف جسٹس نے بات ججوں کی کارکردگی سے شروع کی۔ بلا شبہ ججوں کی بڑی تعداد اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کر تی ہے۔ ایسے سماج میں جہاں پولیس اور دوسرے تحقیقاتی ادارے ناقابل اعتبار ہوں وہاں ججوں کے لئے درست حقائق تک پہنچنا مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ آئے روز عوام دیکھتے ہیں کہ بااثر شخصیات جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنا کر عدالتوں سے رعائتیں لے لیتے ہیں۔ پولیس اہلکار خود کسی ملزم کو بتا دیتے ہیں کہ اس کی گرفتاری کا امکان ہے۔ لہٰذا وہ فوراً ضمانت کروا لے۔ یہ بھی درست ہے کہ سول معاملات میں پولیس کی مداخلت کا جواز نہیں ہوتا مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ کہیں مالی مفادات کا جھگڑا ہو اور پولیس اس میں دخل اندازی نہ کرے۔ ایسے بہت سے کام ہیں جو آئینی طریقہ کار سے ہم آہنگ نہیں مگر حکومتوں نے ان کی اصلاح پر توجہ دی نہ متبادل انتظام کیا۔ حکومتی سطح پر کئی بار پولیس اصلاحات کے منصوبے متعارف کرائے گئے مگر آج تک اس ادارے کا کردار تسلی بخش نہیں رہا۔ ناقص تفتیش مقدمات کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وکلاء اور بار کونسلوں کے الگ مفادات ہیں۔ بارکونسلوں پر بات کرنا ایک حساس معاملہ سمجھا جانے لگا ہے۔ عدالتوں میں سکیورٹی کے انتظامات کئی بار بے نقاب ہو چکے اور متعدد افراد احاطہ عدالت میں قتل کر دیے گئے۔ پٹواری اور پولیس کے منفی کردار نے ایک طرف مقدمات کی تعداد بڑھائی اور دوسری طرف بے سہارا لوگوں کو غلط ریکارڈ اور جھوٹی گواہیوں کے ذریعے انصاف سے محروم کیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جوڈیشل ایکٹیوازم کی پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر ازخود نوٹس لے کر کئی مقدمات کو نمٹایا۔ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسی پالیسی کو زیادہ پرجوش انداز میں چلایا مگر ان پر الزام لگایا جانے لگا کہ وہ حکومت کے لئے انتظامی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ کئی بار عدلیہ پر انتظامی معاملات میں مداخلت کا الزام بھی لگایا جاتا رہا مگر اس مایوس شخص سے کوئی اس کی تکلیف پوچھے جسے کوئی ادارہ تحفظ نہ دے رہا ہو اور پھر سو موٹو ایکشن کے توسط سے اس کی داد رسی ہو۔ قصور کی بیٹی زینب کا معاملہ ہو یا سندھ اور بلوچستان میں جوہڑ سے پانی پینے والے انسانوں کی بے بسی ہو عدلیہ نے انتظامیہ کو کردار ادا کرنے پر مائل کیا۔ محترم چیف جسٹس نے درست فرمایا کہ انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اس کی ایک تاریخی وجہ ہے۔ جسٹس منیر کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ عدلیہ کو اپنی حریف سمجھنے لگی۔ پھر اس طرح کی اور مثالیں آئیں جس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے کچھ جمہوری تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ بہرحال یہ سچ ہے کہ وجہ کچھ بھی ہو پارلیمنٹ نے نظام انصاف کو مضبوط، مداخلت سے پاک اور موثر بنانے کے لئے کبھی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدمات کو تیز رفتاری سے نمٹایا جا رہا ہے۔ ماڈل کورٹس کا تجربہ مفید بتایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ججوں کی تعداد بڑھا کر اور ضروری انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کروا کر اگر معاشرے میں انصاف کا بول بالا کیا جا سکتا ہے تو حکومت کو چیف جسٹس صاحب کی بات توجہ سے سننی چاہیے۔