لاہور(92 نیوزرپورٹ،نیوز ایجنسیاں) سابق وزیر اعظم اور قائد ن لیگ نواز شریف سے اہلخانہ نے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کی۔ محکمہ داخلہ کے احکامات کے مطابق نواز شریف سے خاندان کے پانچ افراد بھائی شہباز شریف ، صاحبزادی مریم نواز ، داماد کیپٹن صفدر اور دیگر نے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی ۔اس موقع پرملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ، اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے فیصلے کے مطابق چیئرمین سینٹ کی تبدیلی ،نئے چیئرمین سینٹ کے لئے حاصل بزنجو کے نام کی منظوری،احتساب عدالت کے جج کی مبینہ آڈیو ، ویڈیو ریکارڈنگ اور مریم نواز کو احتساب عدالت کے 19جولائی کیلئے طلبی کے نوٹس کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔نواز شریف نے مریم نوازاور شہباز شریف کو رہبر کمیٹی کا ساتھ دینے کی ہدایت کی اور کہا یہ مشکل وقت ہے جو جلد گزر جائے گا، ہم قانون اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن انصاف پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے ، مہنگائی سے پسے عوام کیلئے مسلم لیگ (ن) واحد امیدہے اور ہم نے اس طبقے کی آواز بننا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مریم نوازنے والد کو منڈی بہائوالدین کے کامیاب جلسے سے بھی آگاہ کیا اور کہا میاں صاحب گھبرائیں نہیں لوگ آپکے ساتھ ہیں۔ نواز شریف نے کامیاب سیاسی سرگرمیوں پر مریم نواز کی تعریف بھی کی۔ عدالت کی جانب سے اجازت ملنے پر ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کا طبی معائنہ کیا،سینیٹرآصف کرمانی کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت نہ ملی۔شریف خاندان کے افراد کی کوٹ لکھپت جیل آمد پر کارکنوں نے ان کی گاڑیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اوران کے حق میں نعرے لگا ئے ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹویٹ میں نواز شریف کو وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہاسابق وزیر اعظم نے کسی صوبے کو محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا،صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے والے نواز شریف نے پہلے بھی بلوچستان میں حکومت کی قربانی دی ، اب چیئرمین سینٹ کے لیے پھر بلوچستان کے حق میں رائے دی ،وہ تمام صوبوں کو قریب لائے ،ہمارے سب کے دلوں کی دھڑکن نوازشریف۔