لاہور( کرائم رپورٹر،این این آئی )مسلم لیگ (ن) کے قائدنواز شریف نے کہا ہے نیب حکومت کے ہاتھوں یرغمال ہے اور اس ادارے کو سیاسی مخالفین کو کچلنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔سابق وزیر اعظم سے کوٹ لکھپت جیل میں اہلخانہ نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ملاقات کر کے خیریت دریافت کی ۔ملاقات کرنے والوں میں شہباز شریف ، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر ، نواسے جنید سمیت خاندان کے دیگر افراد اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان شامل تھے ،شہباز شریف اورکیپٹن صفدرنے نوازشریف سے مجموعی سیاسی صورتحال ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیز یہ ریفرنس اپیل پر سماعت ، حمزہ شہباز، مریم نواز اور یوسف عباس کے کیسز اور ڈینگی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا ، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف نے پارٹی قائد سے مختلف امور پر رہنمائی لی اور انہیں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کی گرفتاری سے بھی آگاہ کیاجس پر نواز شریف نے ناگواری کا اظہار کیا۔نوازشریف نے کہا حکومت ساری اپوزیشن کو بھی گرفتار کر لے تو ان کو کچھ نہیں ملے گا،حکومت نے سب کو جیلوں میں ڈال دیا، سب کچھ اپنے ہاتھ میں کرلیا پھر بھی مکمل ناکام رہی، عوام شدید مشکلات میں ہیں، جو کام ہم نے کئے وہ بھی ٹھپ کر دئیے گئے ، قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعدقتل کے واقعات پر بہت افسوس ہے ،عوام حکومت سے تنگ آ چکے ،انکا حکومت سے اعتماد اٹھ گیا۔ انہوں نے شہباز شریف کو کہا آپ نے بطور وزیراعلیٰ جو زبردست کام کئے اس کے علاوہ موجودہ حکومت کچھ نہ کر سکی۔شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کی حکمت عملی کے کچھ اہم معاملات سے متعلق آگاہ کیا اور تجویز دی کہ مولانا اکتوبر میں دھرنے کا کہتے ہیں لیکن ہماری تجویز ہے کہ نومبر میں دھرنا لے جائیں،اگر مولانا فضل الرحمان دھرنے میں افراد نہ لا سکے تو وہ فیل ہو جائے گا، دیکھتے ہیں کہ وہ کتنے افراد لانے کے لئے تیاری کرتے ہیں۔نوازشریف سے ملاقات کے لئے مختص دن کی مناسبت سے کارکنان کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچے اورشریف خاندان کے افراد کی آمد پر ان کی گاڑیوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے قیادت کے حق میں اور حکومت کیخلاف نعرے لگاتے رہے ۔