قومی اسمبلی نے قومی احتساب (ترمیم دوئم) بل2022 کی منظوری دے دی۔نیب 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کریگا، پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں 3 سالہ توسیع کی جا سکے گی۔سیکشن 19 ای میں بھی ترمیم کر دی گئی نیب کو ہائی کورٹ کی مدد سے نگرانی کی اجازت دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے دیگر کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی۔ملزم کو اس کے خلاف الزامات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عدالت میں اپنا دفاع کر سکیں ۔ چیئرمین نیب فرد جرم عائد ہونے سے قبل احتساب عدالت میں دائر ریفرنس ختم کرنے کی تجویز کر سکیں گے۔ احتساب ہر معاشرے کے لیے ضروری ہوتا ہے ،جن قوموں اور ملکوں میں احتساب کے عمل کو لپیٹا گیا،وہ زوال کا شکار ہو گئے ۔پاکستان میں1996ء میں سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کی حکومت میں احتساب کمیشن کا قیام عمل میں آیا، جس کے تحت خصوصی احتساب عدالتیں قائم کی گئیں ۔جبکہ 1997 ء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے احتساب کمیشن ختم کر کے احتساب بیورو قائم کیا جس کی سربراہی اس وقت کے سینیٹر سیف الرحمن کو سونپی گئی۔بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں قومی احتساب بیورو قائم کیا تھا ۔جن کا مقصد کرپٹ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا تھا ۔ماضی کے ادوار میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے کیسز قائم کیے تھے ۔ اب بھی فریقین ان ہی کیسز کی بنا پر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں ۔جب 2018ء میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں چلی گئیں اقتدار پاکستان تحریک انصاف کو مل گیا تو نیب کا ایک نیا کردار سامنے آیا، جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیشنل اکائونٹیبلٹی بیورو کو حقیقی معنوں میں احتساب کا ادارہ بنا یا۔انھوں نے حکومتی سطح پر بدعنوانی کے خلاف مہم کا آغاز کیا تو متعدد سرکاری اداروں کے ملازمین کے خلاف بھی کیسز سامنے آئے ۔حکمران اتحاد کے اکثر وبیشتر لوگ اس وقت بھی نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خاں کرپٹ عناصر کے خلاف ہی سیاست میں آئے تھے ۔انھوں نے آکر احتساب کو مزید سخت کیا ۔اس دوران اگر ہم صرف نیب لاہور کی کارکردگی کی بات کریں تو 2017ء سے دسمبر 2021ء تک مجموعی طور پر 14 ارب 65 کروڑ روپے مالیت کی پلی بارگین کی گئی۔ ماضی کے 16 سالہ دور میں کل 17 ارب 70 کروڑ 80 لاکھ روپے کی پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی ممکن بنائی جا سکی تھی۔نیب لاہور کے چار برسوں کے دورانیے میں پلی بارگین وصولیوں میں 181 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔موثر پیروی کے باعث 2021ء میں نیب لاہور کی جرائم میں سزا دلوانے کی شرح 74 فیصد، 2020ء میں 78 فیصد، 2019ء میں 70 فیصد، 2018ء میں 83 فیصد اور 2017ء میں 72 فیصد رہی ہے ۔ ماضی میں ملزمان کرپشن کرتے وقت کئی بار سوچتے تھے کہ انھیں اپنے کیے کی سزا ملے گی ۔لیکن اب موجودہ حکومت نے قانون سازی کر دی ہے کہ 50کروڑ سے کم پر نیب کسی بھی ملزم کے خلاف تحقیق نہیں کر سکے گا ۔قومی خزانہ لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ جہاں پر ملزم نے کرپشن کی ہے وہی پر کیس چلے گا ۔ابھی زیادہ دیر کی بات نہیں کہ پیپلزپارٹی کے لوگوں کو جب کرپشن کیسز میں گرفتار کیا گیا تو انھوں نے سرکاری مشینری کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ،ریلیف لینا شروع کر دیا تھا ،اسی بنا ان کے کیسز دیگر صوبوں کو منتقل ہوئے تھے ۔ ایک اورتبدیلی یہ کی گئی ہے کہ تحقیقات میں کسی بھی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی ۔یہ احتساب کے عمل کو بے جان کرنے کی کوشش ہے ۔ماضی میںنیب کے علاوہ، ایف آئی اے، محکمہ اینٹی کرپشن، ایف بی آر، آئی بی اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسے ادارے بھی احتساب کے لیے کسی نہ کسی انداز میں سرگرم ہوتے ہیں۔اسی بنا پر ملزمان کے جلد گھیرا تنگ کیا جا سکتا تھا ۔اس کے علاوہ ملزم کی نگرانی کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔جس بنا پر ملز کسی وقت بھی ملک سے فرار ہو سکتا ہے ۔ان اقدامات سے معلوم ہو اکہ حکمران اتحا دنے احتساب کے ادارے کو عملًامفلوج کردیا ہے ۔اس کے علاوہ سب سے اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ ملزم پر فرد جرم عائد ہونے سے قبل چیئرمین نیب احتساب عدالت سے ملزم کے خلاف دائر ریفرنس واپس لے سکتا ہے ۔جب نیب خود ہی ملزم کے خلاف تحقیق کر کے ایک کیس فائل کر رہا ہے تو پھر واپس لینے کا مطلب یہی ہے کہ ملز م کو ریلیف دیا جا رہا ہے ۔ حکمران اتحا دمیں تو ان تمام تبدیلیوں کے بارے میں اتفاق رائے قائم ہے اسی بنا پر اسمبلی کے فورم پر کسی نے بھی مخالفت نہیں کی ۔نیب قوانین میں ترمیم کے بعد ثابت ہو اکہ حکمران اتحاد اپنے کیسز کو بچانے کی تگ و دو میں ہے۔حکمران اتحاد نے احتساب کے عمل کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا ہے ۔یہ ملکی ترقی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آ ئے تھے ،نیب کے پر کاٹ کر ملک کوترقی کی شاہراہ پر ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔اس قانون سازی سے ملک ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی جانب گامزن ہو گا ۔