اسلام آباد( لیڈی رپورٹر،آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ نیب لوگوں کو گرفتار کر کے انکی جو تذلیل کر رہا ہے اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ ۔گزشتہ روز ایل این جی سکینڈل کیس میں شاہد خاقان عباسی کی درخواست ضمانت پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اﷲ اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی ۔فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گرفتاری کا غلط استعمال بھی کرپشن ہے ۔بیرسٹر ظفراﷲ خان نے شاہد خاقان عباسی کی طرف سے کیس کی پیروی کی اورعدالت کو بتایا کہ میرے موکل کو وارنٹ گرفتاری کی فوٹو کاپی پر گرفتار کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے ۔جس پر چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ سے استفسار کیا کہ آپ نے ڈیتھ سیل میں کیوں رکھا؟۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی جوڈیشل لاک اپ میں تھے ، ڈیتھ سیل میں رکھنے کی کوئی اطلاعات نہیں ۔بیرسٹر ظفراﷲ نے عدالت کو بتایا کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والو میں شاہد عباسی پانچویں نمبر پر ہیں اور کوئی کرپشن نہیں کی۔ عمران حکومت نے شاہد عباسی کو خط لکھا کہ زیادہ ٹیکس دینے پر ایورڈ لیں۔ ن لیگ کی حکومت میں توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے ایل این جی کی درآمد کا فیصلہ ہوا۔ ایل این جی منصوبہ پر ایک روپیہ حکومت پاکستان کا نہیں لگا۔ ہر شپ منٹ پر حکومت کو پیسہ ملتا ہے پھر جرم کہاں ہوا؟ اگر کرپشن ہوتی تو موجودہ حکومت بھی ٹرمینل کا کنٹریکٹ انہی بنیادوں پر کیوں دیتی ؟۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب حکام سے استفسار کیا کہ کیا یہ بات درست ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کرپشن کی وجہ سے پراجیکٹ پر نظرثانی کیوں نہیں کی گئی؟ ۔ عدالت نے حکم دیا کہ نیب تفتیشی اس متعلق ریکارڈ کیساتھ مطمئن کریں۔ نیب بتائے گرفتاری کی وجہ کیا بنی۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ٹھوس شواہد موجود تھے تو گرفتار کیا گیا، تین وعدہ معاف گواہ بن چکے اور عبوری ریفرنس دائر ہوچکا ہے ۔ مزید سماعت20 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔علاوہ ازیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نارووال سپورٹس سٹی پراجیکٹ میں گرفتار سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کی درخواست ضمانت پرسماعت کی اور ریمارکس دئیے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم غیرضروری ہے ، بلا جواز گرفتاری ملزم کی تضحیک اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ چیئرمین نیب کے پاس شواہد کی روشنی میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا کتنا اختیار ہے اس سے متعلق تفصیلی فیصلہ دینگے ، اس اختیار کی وضاحت کرنا ہو گی۔ نیب عدالت کو مطمئن کرے کہ ملزم کو گرفتاری کیوں ضروری تھی، کیا وہ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا تھا یا ملک سے بھاگ رہا تھا؟ بیرون ملک فرار کے خدشے پر نام ای سی ایل میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے نیب کو احسن اقبال کیخلاف ٹھوس شواہد اور گرفتاری کی وجوہات بتانے کی مہلت دیتے ہوئے درخواست ضمانت پر سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحاق ڈارکی طرف سے نیب کی جانب سے ضبط شدہ گھر کی نیلامی رکوانے اور گھر واپس لینے کیلئے دائر درخواست پرحکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے سماعت4 مارچ تک ملتوی کر دی ۔