لاہور،اسلام آباد،مظفرآباد (نامہ نگار خصوصی،نمائندہ خصوصی سے ، کر ائم رپو رٹر، سپیشل رپورٹر،اپنے نیوز رپورٹر سے ،نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف کولاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینے پر گرفتار کر لیا جبکہ انکی گرفتاری پر سراپا احتجاج مسلم لیگ ن کے رہنما ئوں اور کارکنوں نے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنے دیئے ۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ حمزہ شہباز اپنی عبوری ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے نشاندہی کی کہ نیب نے وہ دستاویزات فراہم نہیں کئے جن کو جواز بنا کر حمزہ کیخلاف منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے باور کرایا کہ یہ نکات اس مرحلے پر نہیں اٹھائے جاسکتے ، ہم سے سوال نہ کریں بلکہ ہمارے سوالات کا جواب دیں۔ وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ اگر نیب کے سیکشن 18 سی پر عمل نہیں ہوا تو تمام عمل غیر قانونی ہو گا۔ نیب کے پراسیکیوٹر کوٹر جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ حمزہ شہباز نے بیرون ملک سے آنیوالی رقم کا ثبوت نہیں دیا،انکے اکاؤنٹ میں 18 کروڑ کی ٹرانزیکشن ہوئی اور وہ اس پیسے کے حوالے سے ثبوت نہیں دے سکے ۔ وکیل سلمان اسلم بٹ نے اصرار کیا کہ ایف ایم یو کی رپورٹ اس معاملہ میں دل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسکے بغیر آگے نہیں بڑ ھاجاسکتا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سو فیصد قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا، باہر کیا باتیں ہو رہی ہیں ہمیں کسی سے غرض نہیں، ہم صرف اﷲ کو جوابدہ ہیں۔عدالتی وقفہ کے بعد وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا ضمانت کی درخواستیں واپس لیتے ہیں، جس پربنچ نے درخواستیں نمٹا دیں۔ن لیگی رہنما فرزانہ بٹ نے کمرہ عدالت کے اندر جانے سے روکنے پر یوٹی پر تعینات پولیس کانسٹیبل علی رضا کو تھپڑ مار دیا۔ نیب نے حمزہ شہباز کو حراست میں لیا تو اس دوران دھکم پیل سے عدالت کی الماری کے شیشے اور دروازہ ٹوٹ گیا۔ اس دوران لیگی کارکن حکومت مخالف اور نیب مخالف نعرہ بازی بھی کرتے رہے ۔حمزہ شہباز نے مطالبہ کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود نیب کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش، گھر پر چھانے پر مارنے اورچیئرمین کے انٹرویو پر پارلیمانی کمیٹی بننی چاہئے اور اسکی انکوائری کرائی جائے ۔ گرفتاری سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ جیلیں نئی نہیں، میرا دامن صاف ہے ۔ نیب اہلکار حمزہ شبہاز کو نیب آفس لے گئے جہاں انکے استعمال کا سامان بھی پہنچادیا گیا۔ گھر سے لائے گئے سامان میں انکے کپڑے ،ایئر کولر،آئس باکس اور دیگر استعمال کی اشیا ء شامل تھیں ۔ نیب کی جانب سے ایئر کولر وصول کرنے سے انکار کر دیا ۔ حمزہ شہباز کا نیب میں طبی معائنہ ہوا اور ان کو تندرست قرار دیا گیا۔ نیب حکام نے حمزہ کو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت بھی دیدی ۔ نیب آج حمزہ کو احتساب عدالت میں پیش کریگا تاکہ منی لانڈرنگ کے الزام میں تفتیش کیلئے انکا14 روزہ جسمانی ریمانڈ لیا جاسکے ۔ حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر پولیس کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب کو رینجرکو بھی طلب کرنا پڑا ،تاہم گرفتاری کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ ن لیگی کارکن حمزہ شہباز کے حق میں اور حکومت اور نیب کیخلاف نعرے لگاتے رہے ، جی پی او چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، ’’گو عمران گو ‘‘اور ’’ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘‘ نعرے لگاتے ہوئے حمزہ کو لے جانیوالی نیب کی گاڑی کو بھی روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں زبردستی ہٹا کر گاڑی روانہ کر دی ۔ ن لیگی کارکنوں نے حمزہ کی گرفتاری کیخلاف مال روڈ سمیت مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے ، کارکنوں نے ٹائر جلا کر ٹریفک بند کر دی جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ن لیگی رہنما چودھری باقر حسین کی قیادت میں یتیم خانہ چوک ، مشتاق مغل کی سربراہی میں بادامی باغ، کرنل (ر) مبشر جاوید اور احسن شرافت کی قیادت میں گڑھی شاہو،ملک وحید کی قیادت میں مغلپورہ ،سہیل شوکت بٹ کی قیادت میں جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا گیا۔ کارکنوں نے فیروز پور روڈ پر بھی ٹائر جلا کر احتجاج کیا،میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کی قیادت میں بھی مظاہرہ کیا گیا۔لیگی کارکنوں نے ،چونگی امرسدھو ، شاہدرہ ، باغبانپورہ، لوہا مارکیٹ ، مسلم ٹائون سمیت دیگر مقامات پر بھی احتجاجی مظاہرے کئے ۔حمزہ شہباز کی گرفتاری کیخلاف ن لیگ یوتھ ونگ کے زیر اہتمام مظفرآباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نعمان زرگر ، خرم نقوی ،حمزہ مغل ،راجہ محسن ، اختر اعوان نے گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ن لیگ کے رہنمائوں مریم اورنگزیب،شاہد خاقان عباسی اوراحسن اقبال نے حمزہ شہباز کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے قراردیا کہ نیب وزیراعظم کے ایما پر چل رہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا کہ جس چور نے پروٹیکشن حاصل کرنا ہے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے اسے نیب سمیت کوئی نہیں پوچھے گا ،کرپٹ لوگ اس وقت وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خسرو بختیار، جہانگیر ترین اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان سے بھی نیب پوچھ گچھ کرے ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ بات بہت آگے جاچکی ہے ، اب حکومت کیساتھ کسی قسم کی بات نہیں ہوسکتی، عمران خان کسی اور کے اشارے پر یہ سب کام کر رہے ہیں۔ حمزہ شہاز پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔حکومت نے کسی کے ایجنڈے پر ملکی معیشت کو تباہ کر دیا، ٹول بنی ہوئی ہے ۔، عمران خان کے دوست نے چیئرمین نیب پر دباؤ ڈالنے کیلئے ویڈیو لیک کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت خود کو ہٹلر حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔حکومت کے غیر جمہوری ہتھکنڈے ہمیں عوام کی آواز اٹھانے سے روک نہیں سکتے ۔ حکومت بجٹ کے موقع پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس سے حکومت پریشان ہو چکی ہے اور ان کے اوسان خطا ہیں۔ حکومت کی چھتری کے نیچے کرپشن کے مگر مچھ بیٹھے ہوئے ہیں ، حکومت کے اتحادیوں پر 20،20سال سے کیس ہیں کسی کو ہاتھ نہیں لگایا جا رہا۔ یکطرفہ احتساب ، احتساب نہیں ، یہ انتقامی کارروائی ہے ۔ن لیگی رہنما عطاء اﷲ تارڑ نے کہا کہ جب وکلاء نے سمجھا کہ ہماری شنوائی نہیں ہو رہی تو درخواست ضمانت واپس لے لی۔جب ہمیں الزامات کا ہی علم نہیں تو دلائل کیسے دینگے ۔حمزہ شہباز ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر اپنا سامان ساتھ لیکر آئے تھے ۔فیملی کی ملاقات کیلئے نیب کو درخواست دے رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورایہ نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متعدد نیب زدہ وزراء عمران نیازی کی گودمیں پنا ہ لئے ہوئے ہیں۔