لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے نیب کی کارروائیوں کو کالعدم قرار دلوانے کیلئے درخواست پر درخواست گزار کے وکیل سے معاونت مانگ لی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پاکستان لائیرز فورم کی درخواست پر سماعت کی جس میں نیب کے قانون پر اعتراضات اٹھائے گئے ۔وکیل اے کے ڈوگر نے دعویٰ کیا کہ نیب آرڈیننس 1999 میں نیب بیورو کی تشکیل کا کوئی تصور موجود نہیں،نیب قانون خاموش ہے کہ کتنے ارکان بیورو کی تشکیل کریں گے اور ان کاتقرر کون کرے گا، نیب آرڈیننس 1999 کو کالعدم قرار دیا جائے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملکہ برطانیہ کی جانب سے دیئے گئے سر کے خطاب کو واپس لینے کیلئے درخواست پر حکومت سے جواب مانگ لیا،درخواست پر مزید کارروائی 30 نومبر کو ہوگی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے نئے بلدیاتی نظام کیخلاف مزید درخواستیں فل بنچ کو بھیج دیں جن پر تین رکنی فل بنچ سماعت کرے گا۔ درخواست گزار کے مطابق نیا بلدیاتی ایکٹ غیر قانونی و غیر آئینی ہے ، کالعدم قرار دیا جائے ۔ بلدیاتی اداروں کی تحلیل کیخلاف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نیا بنچ تشکیل دیدیا جس کے سربراہ جسٹس مامون رشید شیخ ہونگے ۔دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جواد حسن شامل ہیں۔