اسلام آباد(خبر نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی ) عدالت عظمیٰ نے بینکوں اور اومنی گروپ کے درمیان قرضوں کی واپسی پر سیٹلمنٹ نہ ہونے پر نیشنل بینک کو اومنی گروپ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی تو نیشنل بینک کی طرف سے بتایا گیا اومنی گروپ کی طرف سے رکاوٹیں پیش آرہی ہیں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اومنی گروپ کی دھمکیوں کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے ، ملیں بند نہیں ہوں گی، انتظام کسی اور کو دیں گے ،معاملے کی تفتیش ایف آئی اے کرے گی مقامی پولیس نہیں، مجھے پتا ہے جن جن کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وکیل نیشنل بینک نے بتایااومنی گروپ نے 2 لاکھ 25 ہزار چینی کے تھیلے رہن رکھے تھے جو غائب کر دیئے گئے ، یہ جرم ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا بینک سے مل کر کاغذی کارروائی کر لی ہوگی، بینک کے لوگوں کے خلاف بھی پرچہ درج کرائیں، مجھے پتا ہے منیر بھٹی اور شاہد حامد نے کتنی فیس لی ،میں آپ کو آواز سنا دوں گا کیسے جیل میں بیٹھ کر ہدایات دی جا رہی ہیں، اسی لیے ان سے موبائل فون چھینے گئے ۔عدالت نے وکلا کو عبد الغنی مجید اورحسین لوائی سے ملاقات کی اجازت دیدی۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق سندھ بینک، سمٹ اور سلک بینک نے اومنی گروپ سے سمجھوتے کی حامی بھر لی ۔چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کو پیشرفت رپورٹ 15دن میں دینے کی ہدایت کی۔ عدالت عظمٰی نے پنجاب واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق کیس میں صوبائی وزیر محمود الرشید اور سیکرٹری آبپاشی کے بیان حلفی کے ساتھ لاہور میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا ٹائم فریم طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے صوبائی وزیر محمود الرشید سے کہا آپ نیا پاکستان بنانے جا رہے ہیں، نئے پاکستان میں نئے کام بھی تو کریں، لاہور میں کئی گندے نالوں میں ہسپتالوں اور صنعتوں کافضلہ پھینکا جاتا ہے ، میاں صاحب آپ ان نالوں پر سانس بھی نہیں لے سکتے ،نئی حکومت کہتی ہے پلانٹس نہیں لگ سکتے ۔محمود الرشید نے کہابابو صابو ٹریٹمنٹ پلانٹ ڈھائی سال میں مکمل ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا آپ وزیر رہیں نہ رہیں عدالت ایکشن لے گی البتہ پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے ۔