امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قاتلوں کی دو اپریل کو سندھ ہائی کورٹ سے رہائی نے ایک ایسا 80اور90ء کی دہائی کا خونی باب کھول دیا جب افغان جنگ کے دوران جنرل ضیاء الحق نے ساری دنیا کے جہادیوں کے لئے نہ صرف یہ کہ پاکستان کے دروازے کھول دئیے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں انہیں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی فراہم کردئیے۔ساتھ ہی ساری دنیاکے پاکستانی سفارت کاروں کو یہ حکم بھی دیا کہ جو بھی پاکستان آنا چاہتا ہے اُسے بغیر کسی پوچھ گچھ کے ویزا فراہم کردیا جائے۔ القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں سے سینکڑوں کی تعداد میںجہاد کے نام پر وہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوگئے کہ جن کا ایمان تھا کہ وہ محض اشتراکی روس ہی نہیںبلکہ اسلام آباد اور دہلی پر بھی اپنے برانڈ کے اسلام کا پھریرا لہرا دیںگے۔میں اس وقت 80اور90ء کی دہائی کی جہاد کے نام پر دہشت گردی پر نہیں جاؤں گا کہ جس کے سبب 50ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے ۔ ساڑھے 7ہزار ہمارے فوجی جوانوں نے جام ِ شہادت نوش کیا۔اربوں روپے کی املاک جن میں مساجد اورامام بارگاہ بھی تھے ،کو خود کش حملوں اور خونریز دھماکوں سے اڑا دیاگیا۔اور یہ سب کچھ ہمارے اُس دین ِ اسلام کے نام پر ہواکہ جو امن و آشتی اور درگزر کا سبق دیتا ہے۔ ڈینیل پرل کے قاتل عمر شیخ جہادی دہشت گردوں کی ایک بڑی کلاسیکل مثال ہے کہ کس طرح ڈینیل پرل سمیت درجنوں جہادی گروہوں کا نیٹ ورک آزادانہ اپنے مشن کی تکمیل کرتا رہا۔ میں اس وقت سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب In the Line of Fireکے چند اقتباسات پیش کروں گا،جس میں انہوں نے انتہائی تفصیل سے اُن جہادیوں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔جنہیں ضیاء الحق کے دور میں ہمارے ادارے اور ایجنسیوں نے پالا پوسا۔ ڈینیل پرل کے قاتل سید عمر شیخ فروری 2002ء میں پکڑا گیا۔مہینوں اس پر مقدمہ چلتا رہا۔اور پھر خود اُس نے یہ بھیانک انکشاف کیا کہ کس طرح اُس کے نیٹ ورک نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کو قتل کیا۔اُس وقت کی عدالت نے عمر شیخ کو سزائے موت ،اُس کے تین ساتھیوں کو عمر قید کی سزائیں دی تھیں۔ لیکن ہمارا نظام دیکھیں کہ 18سال تک عمر شیخ اور اس کے ساتھی حیدر آباد جیل میں پکنک مناتے رہے ۔ ۔ ۔ عدم ثبوت کی بنیاد پر عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال میں تبدیل کردیا گیا ہے اور بقیہ تین کو رہا کردیا گیا۔عمر شیخ کی رہائی پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔خود ہمارے وزیر خارجہ نے بھی اس کی ٹائمنگ پر سوال اٹھایا ہے کہ ایک ایسے وقت میںجب پاکستان سمیت ساری دنیا کورونا وائرس جیسے عفریت سے نبرد آزما ہے اور جس میںہزاروں لوگ روزانہ ہلاک ہورہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف لکھتے ہیں: ’’عمر شیخ ایک برطانوی شہری ہے۔جو23ستمبر 1973ء کو لندن میں پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی تعلیم انگلینڈ میں ہوئی حالانکہ اس نے چار سال لاہور کے شہرت یافتہ ایچی سن کالج میں بھی گزارے ۔اس کے بعد وہ لندن اسکول آف اکنامکس (London School of Economics)میں پڑھنے گیا۔لیکن اپنی تعلیم پوری کرنے سے پہلے ہی اسے چھوڑدیا۔کچھ حلقوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب عمر شیخ LSEمیں تھا،تب ہی اُسے برطانوی سرغرساں ایجنسی ایم آئی سکس (MI6)نے بھرتی کرلیا تھا۔ایم آئی سکس اسے سربیا کے بوسنیا پرحملوں کے خلاف مظاہروں میں بھرپور حصہ لینے پر آمادہ کیا۔اور کوسوو (Cosovo)تک جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھیجا ۔اس دوران کسی موقع پر غالباً وہ double agentیاrogueبن گیا۔بوسنیا سے واپسی پر وہ پاکستان آیا اور مولاناعبد الجبار سے ملا،جس نے عمر شیخ کو افغانستان میںخوست بھیج دیا،جہاں اُسے گوریلا جنگ کی تربیت دی گئی۔فروری 1994ء میں مقبوضہ کشمیرمیں اسے لوگوں کو ورغلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور سات سال کی قید ہوگئی۔بھارت حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس نے تین انگریز وں ریز پارٹرج (Rhys Partridge)،پال بنجمن رائڈآؤٹ (Paul Benjamin Rideout)اور کرسٹوفر مائلز کراسٹن(Christopher Miles Croston)کو اور ایک امریکی بیلا جوزف نیس(Bela Joseph Nuss)کو 29ستمبر1994ء کو اغوا کیا۔یہ سب بعد میں چھوڑ دئیے گئے تھے۔عمر شیخ کو بھارتی حکومت نے1994ء میں یو پی (UP)میں گرفتار کیا تھا،لیکن 1999ء میں مولانا مسعود اظہر کے ساتھ ایک بھارتی ہوائی جہاز ،جو اغوا کر کے قندھار لے جایاگیا تھا ،کے بدلے میں چھوڑ دیا گیا۔اپنی رہائی کے بعد عمر شیخ نے لاہور میں رہائش اختیار کی، لیکن اس دوران چار مرتبہ تنظیم ’’حرکت جہادی اسلامی افغانستان ‘‘ کے کارکنوں کو تربیت دینے کے لئے افغانستان گیا۔وہ دعویٰ کرتاہے کہ ان دوروں کے زمانے میں وہ اُسامہ بن لادن اور ملا عمردونوں سے ملا ۔اگرچہ وہ القاعدہ کا مستقل رکن نہیںتھا،مگر اس نے اغوا اورتاوان کے ذریعے ان کی مالی امداد کی۔جنوری 2002ء میں ’’حرکت جہادی اسلامی افغانستان‘‘ کے ایک رکن محمد ہاشم نے،جو عمر شیخ کا قریبی دوست بھی تھا، اُسے اطلاع دی کہ ایک امریکی صحافی ڈینیل پرل ،پیر مبارک علی جیلانی سے ملنے کے لئے راولپنڈی ،اسلام آباد میں انتہا پسند تنظیموں سے رابطے میںہے۔پہلے تو عمر شیخ کو شبہ ہوا کہ ممکن ہے وہ انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کام کرنے والے مغربی اداروں کا ایجنٹ ہو۔اس نے ہاشم سے پرل کو اس کی بات کرانے کے لئے کہا۔یہ ملاقاتیں 10اور 11جنوری 2002ء کوہوئیں۔شیخ عمر نے پرل سے اپنا تعارف پیر مبارک علی شاہ کے مرید کے طور پرکرایا اور ایک فرضی نام استعمال کیا۔پرل نے جیلانی سے ملنے پر زور دیااور شیخ عمر نے اس کا بندوسبت کرنے کا وعدہ کیا۔دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے ٹیلی فون نمبر اور ای میل پتوں کا بھی تبادلہ کیا۔ اس ملاقات کے دوران عمر شیخ کے دماغ میں ایک مجرمانہ خیال ابھرا۔حکومت پر دباؤ ڈالنے کے جس طریقہ ٔ کار کا وہ عادی ہوگیا تھا،اُسی کی روشنی میں شیخ نے سوچاکہ وہ پرل کو اغوا کر کے امریکی حکومت پر اس کی ’’گوانتانامو بے‘‘کے قیدیوں کے بارے میں حکمت عملی کوتبدیل کرانے کے لئے دباؤ ڈالے گااور ان میں سے چند قیدیوں کو رہا کرنے پربھی مجبور کر دے گا۔پہلے اس نے پرل کو راولپنڈی میں اغوا کرنے کا سوچا لیکن وہاں اُسے چھپنے کے لئے مناسب جگہ نہ مل سکی۔پھر اس نے اپنے پرانے ساتھی امجد فاروقی کو فون کیا،جس نے بخوشی اس کی مدد کرنے کا وعدہ کرلیا لیکن کہا کہ اس قسم کے انتظامات صرف کراچی میں کئے جاسکتے ہیں۔عمر شیخ نے یہ بہانہ بناکر پرل کوکراچی بلایا کہ جیلانی کراچی میں ہے اور اس سے 23جنوری 2002ء کو ملے گا۔جال بچھ چکا تھا۔‘‘(جاری ہے)