مجھے ملک کے اندر اور باہر سے کئی دوستوں کے فون اور میسجز آئے کہ پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر نئے نامزد کردہ چیف الیکشن کمشنر کا تعلق تمہارے شہر بھیرہ سے ہے۔ کیا یہ درست ہے؟ تاریخی شہر بھیرہ ضلع سرگودھا کی تحصیل ہے۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کا تعلق بھیرہ کے ساتھ ملحقہ میانی لوکڑی کے رہنے والے ہیں۔ پنجابی میں لوکڑی بہت چھوٹے سے گائوں کو کہتے ہیں۔ وہ 1959ء میں اسی گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے حاصل کی۔ بعدازاں غالباً ساتویں جماعت کے بعد وہ کیڈٹ کالج حسن ابدال چلے گئے اور وہیں سے انہوں نے ایف ایس سی کی ۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد راجہ صاحب نے بیورو کریسی کو طب پر ترجیح دی۔ اس اعتبار سے وہ ڈاکٹر سکندر سلطان ہیں۔گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ تقسیم ہند سے پہلے قائم ہو گیا تھا۔ بھیرہ کی کئی نامور شخصیات نے اس ادارے میں تعلیم پائی تھی۔ یہ علاقے کا بہت اچھا سکول سمجھا جاتا تھا بلکہ اب تک اس کی اچھی روایات پرانی آب و تاب کے ساتھ برقرار ہیں۔ میں نے بھی چھٹی جماعت اسی ادارے سے پاس کی تھی پھر ہم سرگودھا منتقل ہو گئے تھے۔ راجہ صاحب علاقے کی تعمیر و ترقی اور لوگوں کی فلاح و بہبود میں دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ پاکستان میں چیف الیکشن کمشنری پھولوں کی سیج نہیں‘ کانٹوں بھرا تاج ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا معروف قانون دان سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ‘ سابق اٹارنی جنرل فخر الدین جی ابراہیم ایک نیک نام شخصیت تھے۔ وہ انسانی حقوق کے بہت بڑے علم بردار تھے اور ہیومن رائٹس کے موضوع پر ہونے والے مذاکروں میں نہایت بیباکی کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کرتے اور کسی مصالحت سے کام نہ لیتے۔ 2012ء میں تمام سیاسی جماعتوں نے ان پر مکمل اعتبار و اعتماد کا اظہار کیا مگر جب 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو نمایاں کامیابی نہ ملی تو اس نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دھرنوں کی سیاست شروع کر دی۔ اس سے دل برداشتہ ہو کر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم مستعفی ہو گئے تھے۔ وہ کراچی کے قانونی و سیاسی حلقوں میں فخر بھائی کے لقب سے مشہور تھے اور لوگ تہہ دل سے ان کی عزت کرتے تھے۔2007ء میں جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معزول کیا تو فخر و بھائی پیرانہ سالی کے باوجود احتجاجی جلوسوں میں اکثر نظر آتے اور اپنے خطاب میں فخریہ بتاتے کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان کے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ کبھی کسی ڈکٹیٹر کے سامنے جھکے تھے نہ جھکیں گے۔ دو ہفتے قبل 91برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔2018ء کے انتخابات میں جسٹس (ر) سردار محمد رضا چیف الیکشن کمشنر تھے وہ ابھی اچھی شہرت رکھتے تھے تاہم نتائج کے فوری اعلانات کے لئے انہوں نے آئی ٹی کا جدید ترین نظام متعارف کروایا تھا وہ بخوبی کام نہ کر سکا اس بار کامیابی تحریک انصاف کے حصے میں آئی۔ اب مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کی کامیابی کو کسی خلائی مخلوق کی کاریگری قرار دے ڈالا اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا ۔ پاکستان میں سب سے پہلے 1956ء میں الیکشن کمشن وجود میں آیا مگر قبل اس کے اس کمشن کے تحت الیکشن کا انعقاد ہوتا۔ ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لاء لگا کر جمہورویت کی بساط ہی لپیٹ دی۔ انہوں نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا ۔ اس بی ڈی سسٹم کے تحت ایوب خان نے اپوزیشن کی متفقہ امیدوار کو دھونس، دھاندلی کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرایا۔1970ء کے انتخابات کو پاکستان کے سب سے زیادہ شفاف انتخابات سمجھا جاتا ہے مگر ان انتخابات میں بھی جنرل یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی جس نے وہاں دوسری مقبول سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کو بھی جلسے نہ کرنے دیے۔ 1973ء سے پہلے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سابق بیورو کریٹس میں سے کی جاتی تھی۔ 1973ء کے دستور میں یہ اہم قومی ذمہ داری صرف نیک نام ریٹائرڈ ججوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا۔جب 1977ء کے عام انتخابات ہوئے تو ان میں اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی پر پری پول اور پھر پولنگ کے دوران دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کئے گئے اپوزیشن نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نئے انتخابات پر آمادہ ہو گئے مگر اچانک تب کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا۔ بہرحال ارکان پارلیمنٹ کو مبارک ہو کہ انہوں نے نیک نام جواں ہمت ریٹائرڈ بیورو کریٹ سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کو بالعموم مستحسن ہی قرار دیا جا رہا ہے۔ البتہ ایک حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان میں مکمل صاف شفاف انتخابات کا انعقاد، لانا ہے جوئے شیر کا۔ یقینا مکمل فیئر اور فری انتخابات ہم سب کی دلی خواہش ہے مگر پاکستان میں یہ ہدف اس وقت سوفیصد پورا ہو گا جب اسٹیبلشمنٹ مکمل طور غیر جانبدار رہے گی جب پارلیمنٹ مضبوط ہو گی اور جب پارلیمنٹ و جمہوری روایات پختہ ہوں گی۔ اس سلسلے میں سیاست دانوں کو بھی ہر قیمت پر کامیابی حاصل کرنے کا خیال دل سے نکالنا ہو گا۔