حکومت نے آن لائن اشیاء کی فروخت پر سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے۔ ڈومین کا نام اور ڈومین دینے والے شخص یا سروس مہیا کرنے والی کمپنی، سپلائی سنٹرز اور گوداموں کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک کر کے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایف بی آر کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن اشیاء کی فروخت کی مد میں سالانہ اربوں روپے کی چوری روکنے کے لیے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آن لائن کمپنیوں کی طرف سے ملک بھر میں روزانہ بڑے پیمانے پر سامان فروخت کیا جارہا ہے لیکن یہ ٹیکس ادا نہیں کر رہی ہیں لہٰذا ان کمپنیوں کو سیلز ٹیکس نیٹ ورک میں لانا ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے نہ صرف اربوں کی ٹیکس چوری روکی جا سکے گی بلکہ یہ قومی آمدنی میں اضافے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کمپنیوںکو دیگر قاعدے کلیوں کا پابند بھی کیا جائے کیونکہ اکثر صارفین شکایت کرتے ہیں کہ بعض کمپنیاں جو آن لائن سامان فروخت کرتی ہیں خریدنے پر ان کی مصنوعات کی کوالٹی وہ نہیں ہوتی جس کا یہ کمپنیاں آن لائن دعویٰ کرتی ہیں لہٰذا ان کمپنیوں کو اپنی سائبر رجسٹریشن، مصنوعات کی تیاری، معیار اور قیمتوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے تاکہ صارفین کو ان کمپنیوں سے آن لائن خریداری کے بعد مالی خسارے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔