لاہور(حنیف خان ) ن لیگ مریم نواز کی گرفتاری کے بعد متحرک سیاسی قیادت لانے میں ناکام ہوگئی جبکہ شہبازشریف اور بلاول بھٹو زرداری کی محدود سیاسی سرگرمیوں کے باعث جے یو آئی (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی ناراضگی کا اظہار کررہی ہیں ،ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومت مخالف سرگرمیاں نہ ہونے پر اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کے اقدام سے قبل کا منصوبہ دھرے کا دھرے رہ گیا ، حکومت مخالف تمام جماعتوں کی قیادت میں مشترکہ جلسے ہوسکے اورنہ عوامی رابطہ مہم چلائی جاسکی۔جے یو آئی (ف) نجی بیٹھک میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سرگرمیاں محدود ہونے پر گلے شکوے کررہی ہے ۔تفصیلا ت کے مطابق مریم نواز نے اپنی گرفتاری کی صورت میں اعلان کیا تھا کہ اگرہمیں گرفتار کریں گے تو دوسرے تیسرے درجے کی قیادت آجائے گی جو حکومت مخالف آواز اٹھائے گی لیکن مریم نوازکی گرفتاری کے بعد حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں جمود کا شکار ہوگئی ہیں ۔مریم نواز کی حکمت عملی تھی کہ انکی گرفتاری کے بعد ان کے صاحبزادے جنید صفدر عوامی رابطہ مہم چلائیں گے اور نواز شریف کے بیانیہ کو لیکر آگے چلیں گے اس سلسلے میں مظفرآباد میں جلسے کی قیادت کرنا تھی لیکن یہ حکمت عملی بھی دھری کی دھری رہ گئی اورشہباز شریف کی سرگرمیاں صرف ماڈل ٹاؤن جبکہ سیکرٹری جنر ل احسن اقبال ،مریم اورنگزیب اسلام آباد تک محدود ہیں۔گرفتاریوں سے محفوظ قیادت اپنے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک نہیں کرپارہے ،احسن اقبال نے لاہور میں اجلاس کی صدارت تو کی لیکن اس کے نتائج سامنے نہیں آسکے ۔لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں بھی ابھی تک ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے عملی شرکت کی یقین دہانی نہیں کرائی ۔ذرائع نے کہا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کے ذریعہ نوازشریف کے پیغام پرمولانا فضل الرحمن نے شکریہ ادا تو کیا لیکن ان کے ن لیگ کے کردار پر تحفظات برقرار ہیں،ان میں رائے پائی جارہی ہے کہ مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کسی مبینہ ڈیل کے انتظار میں ہیں۔جمعیت علمائاسلام (ف)اس کا کھل کر اظہار اس لئے نہیں کررہی کہ کہیں دوریا ں نہ بڑھ جائیں۔