معروف سوشل اینڈ میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے باعث ترکی نے میسجنگ کی اپنی ایپ متعارف کروا دی ہے۔ دنیا بھر میںواٹس ایپ کے صارفین کی تعداد دو ارب سے تجاوز کر چکی ہے اور کمپنی دنیا بھر کے ممالک سے سالانہ اربوں ڈالر کما رہی ہے۔ اس کے باوجود واٹس ایپ نے سماجی ویب فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کا معاہدہ کیا ہے جس سے دنیا بھر کے صارفین میں ڈیٹا کے غیر محفوظ اور غلط استعمال کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔2015ء میں فیس بک کے تقریباً 8 سے 9کروڑ صارفین کا ڈیٹا لیک ہوگیا تھا تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ ڈیٹا برطانوی کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا کے پاس چلا گیا تھا ۔امریکا میں انتخابات میں رائے عامہ کو مخصوص سمت میں موڑنے کیلئے بھی اسی ڈیٹا کا استعمال ہوا۔ چین پہلے ہی اپنی سوشل میسجنگ کی متعدد ایپ متعارف کروا کر کثیر زرمبادلہ کما رہا ہے۔ اب واٹس ایپ کے ڈیٹا شیئرنگ کے معاہدے کے بعد ترکی نے بھی اپنی ایپ لانچ کردی ہے ۔ وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی فواد چودھری نے گزشتہ روز پاکستان کے بھی اپنی سوشل ایپ بنانے اور عوامی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بہتر ہوگا حکومت چین اور ترکی کی طرح پاکستانیوں کے لئے بھی اپنی سوشل میسجنگ ایپ بنائے اور اس کے محفوظ رہنے کو بھی یقینی بنائے تاکہ پاکستان بھی محفوظ انداز میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرسکے اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو سکے۔