سری نگر( نیٹ نیوز)کشمیری گلوکار الطاف قمر نے کہاہے کہ دنیا میرے گانے سنتی ہے مگر میں اپنے والدین کی آواز سننے کو ترس گیاہوں ۔انڈیا کے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن نے مقامی افراد کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔ 45 سالہ الطاف میر جنھیں بہت سے لوگ پاکستان میں موسیقی کے مقبول پروگرام کوک سٹوڈیو میں پیش کیے گئے ان کے گانے 'ہاگلو' کے ذریعے جانتے ہیں۔الطاف میر نے حال ہی میں بی بی سی اردو سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے ماضی اور پاکستان میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آج 60 دن ہوئے گھر والوں سے بات نہیں ہوئی۔ امّی نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر ہو سکے تو کرفیو اٹھتے ہی ملنے آ جانا۔ الطاف نے کہا کہ 'جب انسان مجبور ہوتا ہے تو پتھر اٹھانا پڑتا ہے ۔ ہمیں خواہ مخواہ مارا جاتا ہے ۔روز صبح پانچ بجے انڈین فوج گھر سے باہر نکال کر کھڑا رکھتے تھے ۔ پھر پوچھ گچھ شروع ہوتی تھی۔ پوچھا جاتا تھا کون مجاہد ہے کون نہیں، اور اس کے فوراً بعد مار پیٹ۔مظفر آباد میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم الطاف خود کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں مگر ان کا دل اننت ناگ میں ہی ہے ۔