اسلام نے رشتوں کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ۔ دراصل یہ رشتوں کا تقدس ہی ہے جو خاندان کی بنیاد بنتا ہے اور انہیں قائم رکھتا ہے ۔ اسلام نے ایک تو رشتوں کو اہمیت دی اور دوسرا ان کی حفاظت کو ضروری قرار دیا۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہو تو اس بگاڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تعلیم دی۔خاتم النبیین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’میں اللہ ہوں، میں رحمان ہوں، میں نے رشتہ و قرابت کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام رحمٰن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم نام دیا ہے ، پس جو اسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا، اور جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑ دوں گا۔(ابودائود) اس حدیث میں کس خوبصورتی سے رشتہ داری کو یعنی رحم اور پھر اسے رحمٰن سے جوڑا گیا ہے جو اللہ کی بہت رحمت و الفت والی صفت ہے ۔ رشتہ داروں کو ذوی الارحام کہا جاتا ہے ، ایک ذی رحم پکارا جاتا ہے اور رحمٰن کا مادہ اصلی رحم ہے یوں رحمٰن اور رحم آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ رشتہ دار بھی آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں اس ملے ہوئے ہونے کا لحاظ رکھنے کی اور جڑے رہنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ رشتہ داروں سے جڑنا اللہ سے جڑنا ہے اور ان سے قطع تعلقی اختیار کرنا اور دوری اختیار کرنا اللہ سے دوری کا باعث ہے ۔ رشتے احترام سے قائم رہتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہیں۔خاتم النبیین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ہم رشتوں کا احترام کریں۔ مشہور واقعہ ہے ۔سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہاجن کے گھر میں خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن میں رہے وہ قبیلہ ہوازن سے تھیں، اس قبیلہ سے غزوہ حنین میں جنگ ہوئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر بعد میں ہوازن مسلمان ہو گئے ، خاتم النبیین نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قیدی جو غلام بنائے گئے تھے واپس کر دیئے کہ وہ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے اہل قرابت تھے ۔وہ غزوہ حنین کے موقع پرشفیعِ معظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں، خاتم النبیین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے لیے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر بچھا دی۔ (مرآۃ المناجیح) خاتم النبیین نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ جو زیادہ سے زیادہ کہا جاتا ہے وہ رضاعی والدہ کا تھا،خاتم النبیین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کا اتنا پاس تھا کہ خاتم النبیین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی خاطر اس قبیلے کے سارے قیدی رہا کر دیئے صرف رضاعی ماں نہیں بلکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تورضاعی بہن کا بھی بہت احترام کیا جب حضرت شیمارضی اللہ عنہانے بارگاہِ عالی قدس میں حاضر ہوکرخاتم النبیین نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بچپن کا ایک واقعہ ذکرکیا تو خاتم النبیین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :’’ہاں تم میری بہن ہو ۔‘‘جب حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تشریف لائیں تو اس قدر احترام کیا کہ اپنی چادر بچھائی، ان کا ادب واحترام کیاتو اندازہ کیجیے کہ جب سرکارکل جہاں کی سیرت پاک سے دودھ کے رشتے کے پاس لحاظ کااس قدر نمونہ اور سبق ملتا ہے تو پھر حقیقی والد اور والدہ کے رشتوں کا پاس لحاظ کس قدر ضروری اورلازم ہوگا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ جب خا تم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کارضاعی رشتے کے حوالے سے یہ فرمان مشہور ہے ،:''یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب'':کہ دودھ کا رشتہ بھی ایسے ہی ہے جیسے نسب کا رشتہ ہے ۔ (صحیح بخاری)رحم کے رشتہ داروں کے حقوق بہت زیادہ ہیں انسان ان سے کبھی بھی لاتعلق ہو کر نہیں رہ سکتا اس لیے ضروری ہے کہ ان رشتہ داروں کا احترام کیا جائے تاکہ یہ رشتے مضبوط رہیں۔ بسا اوقات لوگ اپنے والدین کی خدمت تو کرنے میں کسی قدر دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر اپنے والد کے دوستوں اور ان کے بھائی یعنی چچا کے ساتھ صلہ رحمی کی بجائے ان کو اپنا حریف اور فریق سمجھتے ہیں، حالانکہ والدین کے انتقال کے بعد چچا اور خالہ اسی طرح والدین کے دوسرے متعلقین کے ساتھ حسن سلوک کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے برابر بتلایا گیا ہے ۔ والد کے عزیزوں اوراس کے بہن بھائیوں سے حسن سلوک کے حوالے سے درج ذیل روایت قابل غور ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی یہ چاہے کہ قبر میں اپنے باپ کو آرام پہنچائے اور خدمت کرے تو باپ کے انتقال کے بعد اس کے بھائیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے ۔ (ابن حبان) اسی طرح بڑے بھائی کو باپ کا درجہ دیا گیا، خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر ویسا ہی حق ہے ، جیسا کہ باپ کا اولاد پر حق ہے ۔ ’’الاخ الکبیر بمنزلۃ الاب‘‘ بڑا بھائی باپ کی طرح ہوتا ہے ۔ خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچاجناب ابوطالب کے وصال والے سال کو عام الحزن قراردیااوران کے وصال کے بعداکثر ان کی بھلائیوں کویادفرمایاکرتے ۔ جنگ احد میں جب خاتم النبیین حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی کرب ناک شہادت پر اپنی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے زارو قطار آنسو دیکھے تو آپ بھی بے اختیار رونے لگے ۔ پھر اپنی پھوپھی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایاکہ ہمیں صبر کرنا چاہیے ، مجھے اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ذریعے یہ خبر دی ہے کہ عرش عظیم پر حمزہ (رضی اللہ عنہ)کا استقبال ہوا ہے اور وہاں انہیں اسد اللہ و اسد الرسول کا خطاب دیا گیاہے ۔(اسدلغابہ،مستدرک) خاتم النبیین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کااپنے چچاؤں اور پھوپھیوں اوراپنے والدین کی طرف سے رشتہ داروں سے حسن سلوک مثالی تھا۔اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے رشتہ داروں کے حقوق اور رشتوں کی پاسداری کریں۔