نئی دہلی (نیٹ نیوز ) مودی سرکار نے ملک میں موجود ان کئی زمینوں اور مکانات کی نیلامی کا پہلا راؤنڈ شروع کر دیا ہے جسے وہ ’دشمنوں کی املاک‘ تصور کرتا ہے ۔ برصغیر کی تقسیم یا 65 اور 71 کی جنگوں کے دوران پاکستان چلے جانے والے افراد کی جائیدادوں کو انڈین حکومت نے 'دشمنوں کی املاک' کے طور پر تحویل میں لے لیا تھا۔وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا غیر متنازعہ املاک کی فہرست سب سے پہلے مغربی بنگال میں تیار کر کے انہیں نیلام کیا جائے گا۔تین سال قبل انڈین پارلیمان میں ایک قانونی ترمیم کے ذریعے ان دشمن املاک پر ورثہ کے حقوق بھی گھٹا دیے گئے تھے ۔ذرائع نے بتایا اگر یہ ’آزمائشی منصوبہ‘ کامیاب ہوتا ہے تو یہی مرحلہ دیگر ریاستوں میں بھی دہرایا جائے گا۔انڈین وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست اتر پردیش میں ملک بھر میں ایسی سب سے زیادہ املاک ہیں جبکہ اس کے بعد سب سے زیادہ ’دشمن املاک‘ مغربی بنگال میں ہیں جن کی تعداد 2735 ہے ۔انڈیا پاکستان اور انڈیا چین جنگوں کے دوران ترک کر دی گئی ان املاک کی نیلامی سے حکومت کو کم از کم ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے ۔ جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر سلیم انجنیئر کے مطابق کئی لوگوں نے آزادی یا جنگ کے دوران ملک چھوڑا مگر کئی لوگوں کے رشتے دار یا ورثا ان کی چھوڑی گئی زمینوں پر آباد ہوئے اور بعد میں قوانین کے تحت یہ زمینیں حاصل کیں۔مگر قانون تبدیل کر کے حکومت ایک مخصوص برادری یعنی مسلمانوں کو ہدف بنانا چاہتی ہے ۔ انتظامیہ ان کی قانونی املاک کو ہتھیانا چاہتی ہے ۔