جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے اپنی حالت پہ مجھے خود بھی ہنسی آتی ہے جو بھی آتا ہے مجھے اور رلا جاتا ہے پتہ نہیں مجھے یہ خیال لاہور قلندر کی لگاتار ہار پر کیوں آیا کہ جو بھی اٹھتا ہے وہ لاہور قلندر کو ہرا جاتا ہے۔ کوئی حد ہوتی ہے’’ماڑی بھیڈ ساریاں دی کھیڈ‘‘ ویسے تو کہتے ہیں کہ برا وقت اکیلا نہیں آتا۔ سب کچھ ہی ناموافق ہو جاتا ہے۔ مگر برا وقت بھی کبھی کبھی آتا ہے مگر لاہور قلندر پر تو ہر وقت ہی برا وقت رہتا ہے۔ انہوں نے تو ہارے کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ اب تو بالکل ہی حد کر دی ہے کہ شکست کی ہیٹرک یعنی تین بار مسلسل ناکامی اور ٹورنامنٹ سے باہر۔ غالب کا شعر کیوں یاد نہ آئے گا: نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے مجھے تو آتش بھی نہیں بھولے’’نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتش۔برستی آگ جو باراں کے آرزو کرتے‘‘ ہمارے طارق عزیز نے بھی ایک شعر میں کہا تھا کہ اگر وہ کفن کی دکان کھول لیں تو لوگ مرنا ہی چھوڑ دیں۔ وہ مشہور محاورہ نہیں سنا آپ نے !غریباں نے رکھے روزے تے دن وڈے آئے۔بہرحال لاہور قلندر کے لئے جیتنا جیسے ناممکن ہو گیا ہے اور ان کی قسمت میں داد و تحسین نہیں۔بے چارے کڑھتے رہتے ہیں۔ ایک دو مرتبہ تو وہ جیت کر بھی ہار گئے کہ اچھے خاصے رنز کر کے بھی نہ جیتے‘حفیظ نے سنچری بھی کی تھی۔بس کیا کریں مقدر کی بات ہے قلندر کی قسمت میں سکندر بننا نہیں کہ وہ بھی تو مقدر پر انحصار کرتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آسودگی قسمت میں نہ تھی جل گئے سایہ دیوار تک آتے آتے یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ لاہور قلندر ایک ایسی اصطلاح بن گئی ہے کہ سیاست میں بھی استعمال ہونے لگی وہ یوں ہوا کہ میں اپنے کزن طیب صدیقی کے پاس بیٹھا تھا اور بھی دوست تھے‘ میں نے طیب اقبال صدیقی سے کہا کہ ’’یار!آپ جماعت اسلامی والے واقعتاً بہت کام کرتے ہو اور انہی حوالے سے آپ لوگوں کی بہت اچھی شہرت ہے۔ آپ کے سادے لوگ اقتدار میں کسی نہ کسی شکل میں آئے اور ان پر کرپشن کا کوئی داغ تک نہیں۔ سوشل کاموں میں آپ کا کوئی ثانی نہیں کار خیر میں بھی آپ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ درس قرآن اور تربیت کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ گلی محلوں میں لوگ آپ کے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر یہ کیا بات ہے کہ الیکشن میں آپ آرام سے ہار جاتے ہیں۔ لوگ آپ کو آخر ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ ویسے تو طیب بہت سنجیدہ مزاج ہے مگر اس میں حس مزاح بھی کہیں موجود ہے مسکراتے ہوئے کہنے لگا’’بھائی جان!ہم لاہور قلندرہیں‘‘ یہ سن کر ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔ واقعتاً میں سوچنے لگا کہ جماعت اسلامی اور لاہور قلندر میں بہت مشابہت ہے جس طرح جماعت اسلامی والے الیکشن ہارنے کے لئے الیکشن لڑتے ہیں اسی طرح لاہور قلندر ہارنے کے لئے ہی پی ایس کھیلتے ہیں۔ حالانکہ لاہور قلندر والوں کو چاہنے والے بہت ہیں اور وہ بار باربری طرح مایوس ہوتے ہیں۔ہر بار وہ لاہور قلندر سے امید لگاتے ہیں کہ اب کے بار شاید وہ کپ اٹھا لیں مگر قلندروں نے بھی ہارنے کی قسم اٹھائی ہوئی ہے۔ فرنچائز خریدنے والا ان پر کروڑوں روپے ہر مرتبہ ضائع کرتا ہے۔ آغاز میں اسے 31کروڑ کا نقصان ہوا‘ پھر 42کروڑ اور پھر بڑھتا گیا۔ قلندر آخری دو پوزیشنوں پر ہی ڈگمگا رہے ہیں۔ انہوں نے کھلاڑی بدل بدل کر دیکھ لئے حتیٰ کہ سات کپتان بھی مگر انہیں یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ کوچ کو بدل کر دیکھ لیں۔ ان کا کوچ عاقب جاوید اپنی منطق پیش کرتے ہیں کہ جیتنا کوئی مشکل کام نہیں چارپانچ باہر کے تگڑے کھلاڑی ڈال کر جیتا جا سکتا ہے مگر وہ تو لوکل ٹیلنٹ کو لیکس پوژر دے رہے ہیں۔ مگر ہر مرتبہ ہارنا بھی تو اچھی بات نہیں اور وہ بھی لاہور کے نام پر زندہ دلان لاہور کے دلوں پر قیامت گزر جاتی ہے۔ اب آپ کراچی قلندر بنا لیں یا حیدر آباد قلندر۔ مذاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر بھی ان کی بھد اڑ رہی ہے۔ایک شخص نے ایک پوسٹ لگائی ہے جس میں نواز شریف نے ایک بینر اٹھا رکھا ہے جس پر تحریر ہے کہ جب تک لاہور قلندر نہیں جیتتے وہ واپس پاکستان نہیں آئیں گے۔ میرا خیال یہ ہے کہ نواز شریف چھوڑ کر پرویز مشرف بھی وطن واپس آ سکتے ہیں مگر لاہور قلندر پھر بھی نہیں جیتیں گے کہ جتنی شہرت انہیں مسلسل ہار کر ملی ہے وہ کسی کو نہیں مل سکتی۔ ان کی طرح کون لگاتار ہار سکتا ہے یہ بھی گویا ایک فن ہے اگر گئی گزری ٹیم بھی ایک آدھ میچ جیت جاتی ہے یہ جیسے محبت کی ہار ہے کہ جس میں مزہ آتا ہے وہی کہ ’’ہاروں تو تجھے پائوں‘‘ تھا مقابل جو مرے دوست مرا مجھے اچھی لگی پسپائی بھی مسئلہ تو لاہور قلندر کے مداحوں کا ہے۔ بے چارے ہر بار پورے خوش اور جذبہ سے ان کی ڈھارس بندھانے دم دم مست قلندر کرتے گرائونڈ میں آتے ہیں اور قلندروں کو اشتعال بھی دلاتے ہیں۔ مگر ان کے تو جیسے دانے ختم ہو چکے ہیں یا انہوں نے ستو پی لیے ہیں۔ ہو سکتا ہے شکست ان کے لئے نفسیاتی مسئلہ بن گئی ہو کیونکہ وہ جیتنے بھی لگتے ہیں تو ان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں۔ کبھی تو کبھی وہ عثمان بزدار کی طرح معصوم لگتے ہیں کہ جن سے عمران خاں نے اتنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں کہ جو ٹرمپ بھی پوری نہیں کر سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر عاقب جاوید کے ساتھ ساتھ پی سی بی کی یہی ضد ہے کہ کسی صورت میں قلندروں کو جتوانا ہے تو پھر ایک ہی صورت ہے کہ دوسری ٹیموں کی منت کر لی جائے کہ وہ ان کے مقابلے میں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کریں۔ یہ کام امپائرز کے ذمہ تو لگایا نہیں جا سکتا کہ شک پڑ جائے گا۔ کھلاڑی تو ہرانے کے لئے ڈرامہ کر سکتے ہیں جیسے بابا ٹک ٹک نے ورلڈ کپ میں ہمارا کام تمام کیا تھا کہ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب پاکستان نہیں جیت سکتا تو اس نے چھکے لگانے شروع کر دیے۔ دیکھیے بات کدھر سے کدھر نکل جاتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ لاہور قلندر کا کوچ ہمارے عامر خاں خاکوانی کو بنا دیا جائے۔ وہ انہیں میٹھے میٹھے انداز میں سمجھا سکتے ہیں کہ ہمیشہ ہارنا کوئی اچھی بات نہیں۔ قلندرو!اپنے مداحین ہی کا کچھ خیال کر لیں آپ سے پیار کرنے والا بھی آپ کو برا کہنے لگے تو پھر سوچ لیں: میں جانتا ہوں کہ دنیا برا ہی کہتی ہے مگر جب اس نے کہا ہے تو میں برا ہوں ناں