لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار ارشاد احمد عارف نے کہا ہے کہ رمضان کے روزے اورعید مذہبی فریضہ ہے ۔ جب فواد چودھری نے کہا کہ رویت کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو یہ بات سن کر میں کانپ گیا،وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کاکام رویت نہیں بلکہ وہ ویکسین بنائے ، جیوانی میں چانداگر نظر آرہاہے تو وہ سائنس کی وجہ سے نہیں بلکہ وہاں پر چاند تو ویسے بھی موجود ہے ، چاند تو موجودہے اس کا غائب ہونا یا نظر آنا یہ ایک اضافی چیز ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتا ہے ۔ چاند کی رویت بہت ضروری ہے جس کے بارے میں اللہ کے نبی نے فرمایا ہے ۔ابھی سال دو سال پہلے تجربہ کیا گیا کہ پورے ملک میں نمازیں ایک ہی وقت میں ہوں، میں نے اس وقت لکھا بھی تھاکہ اس سے بڑی جہالت ہوہی نہیں سکتی کہ اسلام آپ کورعایت دے رہاہے کہ نماز کے لئے یہ وقت ہے اس میں نماز پڑھیں لیکن جب ایک وقت میں نماز پڑھیں گے تو لوگوں کے بہت سارے مسائل ہونگے وہ عملی طورپر ناممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بات کہی جارہی ہے نہ وہ فہم ،نہ ہی عقل کے مطابق اور نہ ہی شریعت کا تقاضا ہے ۔ یہ صرف فساد پھیلایاجارہاہے ۔ پاکستان میں ہمیشہ اتفاق رائے سے عید منائی گئی ہے ایوب خان کے دور میں ایک واقعہ ہوا تھا اس کے بعد کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا ۔ پشاور میں مفتی پوپلزئی صرف ایک شہر کی حدتک چاند کے حوالے سے اعلان کرتے ہیں لیکن اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ آئین کے مطابق حکومت نے ایک ادارہ بنایا ہے مسئلہ یہ ہے ایک مکتبہ فکر ہے جو اسلام کو نشانہ بنانا چاہتا ہے لیکن اس کو یہ تو جرات نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے تاہم وہ ایک مولوی کو نشانہ بناتا ہے اس وقت رویت ہلال کمیٹی کو نہیں بلکہ پاکستان کے آئین اورقانون کو چیلنج کیاجارہاہے یہ انتشار پھیلانے کی سازش ہے ۔رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پرپورے ملک میں عید منائی جاتی ہے جبکہ پوپلزئی کے فیصلے پر شہر کا ایک حصہ ہی مانتا ہے باقی پورے صوبے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق عید پڑھی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ طے یہ ہوا کہ لوگ عید رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق پڑھیں گے کیونکہ وہ ایک آئینی ادارہ ہے جس کو حکومت نے قائم کیا ہے ۔ سیکرٹری جنرل رویت ہلال ریسرچ کونسل خالد اعجاز مفتی نے کہا کہ گزشتہ سال وزارت سائنس نے کیلنڈر بنایا تھا جس کو سال میں چار بار رد کیاجاچکاہے ، اصل مسئلہ چاند کی رویت کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ایک ہی روز عید کا ہونا ممکن نہیں ہے ۔دوربین سے چاند کا دیکھنا رویت میں نہیں آتا ہے کھلی آنکھ سے چاند دیکھنا ضروری ہے ۔ تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا ہے کہ یہ دین کا معاملہ ہے جس میں رسول اللہ ؐ کا حکم حتمی ہے ،میری رائے میں پوری امت ایک چاند دیکھے ، جب خلافت عثمانیہ تھی تو پورے شام عراق اورمشرق وسطی میں چاند کی ایک ہی رویت پر فیصلہ ہوتاتھاکیا ایسا آج نہیں ہوسکتا ہے ۔رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اوریا مقبو ل جان نے کہا کہ اس کمیٹی کو اس لئے بنایا گیا تاکہ اس کی حیثیت کا تعین کیا جاسکے ۔جوائنٹ سیکرٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹرطارق مسعود نے کہا کہ ہم نے وزیر سائنس کے کہنے پر جو قمر ی کیلنڈر بنایا ہے اس کی تشکیل میں تمام متعلقہ محکموں کے ماہرین شامل تھے ۔ یہ کوئی جرات نہیں کرسکتا کہ وہ اللہ کے رسول کے فرمان کے خلاف جائے یہ بات تو صرف اور صرف منطق یا لاجک کے طورپر کہی جارہی ہے ۔تجزیہ کارفرخ سہیل گوئندی نے کہا کہ اگر پاکستان جو ایک ریاست ہے وہ فیصلہ کرلیتی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ چلیں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ امت مسلمہ کے ہم دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن اس میں تفریق بھی ہم اسی طرح شدت سے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک عید منانے سے امت مضبوط ہوتی ہے تو اس کو مضبوط ہونے دیں۔رویت ہلال کمیٹی آئین کے مطابق ایک ادارہ ہے ۔