اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،وقائع نگار خصوصی، 92 نیوز رپورٹ، نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پراپوزیشن لیڈر و مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔وزیراعظم نے خط میں چیف الیکشن کمشنر تقرر کیلئے 3نام تجویزکردیئے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کوخط15جنوری کو لکھا جس میں3 سابق وفاقی سیکرٹریزکے نام چیف الیکشن کمشنرکیلئے تجویزکئے گئے ۔تجویزکردہ ناموں میں جمیل احمد،فضل عباس میکن اورسکندرسلطان راجہ شامل ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے خط میں لکھاکہ بامعنی مذاکرات کیلئے آپ کوخط لکھ رہاہوں، چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی کاعرصہ سے زیرالتوامعاملہ حل کرناچاہتاہوں،آپ کوازسرنوتشکیل کیاگیاپینل بھیج رہاہوں ۔ مسلم لیگ ن کے رہنماخواجہ آصف نے وزیراعظم کی جانب سے لکھاگیاخط شہبازشریف کولندن بھجوادیا۔علاوہ ازیں حکومت اور اپوزیشن میں چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تعیناتی کے معاملے پر عدم اتفاق کا سلسلہ جاری ہے اورڈیڈلاک برقرار ہے جس پر معاملہ پھر لٹک گیا ۔دونوں فریق اپنی اپنی نامزدگیوں پر ڈٹ گئے ۔پارلیمانی کمیٹی کا 11 واں اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا۔گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹرشریں مزاری کی صدارت میں ہوا جس میں حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے نئے نام پیش کرنا تھے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اجلاس میں پنجاب اور سندھ سے الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کیلئے ناموں پر بھی کوئی پیشرفت نہ ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تعیناتی کیلئے کسی نام پر اتفاق نہیں ہو سکا توفیصلہ کیا گیا کہ پیر20جنوری کو پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہو گا جبکہ حکومت کی جانب سے پہلے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے تجویز کر دہ نام اپوزیشن کو بھیجے جائینگے ۔ اپوزیشن کے جانب سے اسکے بعد چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے نام حکومت کو بھجوائے جائیں گے ۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیرپارلیمانی امورسینیٹر اعظم سواتی نے میڈیا کے استفسار پر کہا کہ کوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوا پیر کو دوبارہ اجلاس ہوگا صوبوں سے ارکان پر بھی بات ہوئی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کے حکومتی رکن اعظم سواتی نے بتایا کہ بلوچستان اور سندھ سے ایک نام حکومت اور ایک اپوزیشن سے ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بہت ہوگیا، اب اتفاق رائے پیدا ہوجانا چاہئے ، چاہتے ہیں چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق رائے ہو، چیف الیکشن کمشنر کیلئے نام بند لفافہ میں ہیں لیکن ہم نے اپنے نام کمیٹی میں تاحال شیئر نہیں کئے ۔ پیر کو اتفاق رائے نہ ہوا تو منگل کو دوسرے فارمولے پر جائینگے ۔چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اگلا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہی ہوگا جس میں چیف الیکشن کمشنر کیلئے نام پیش کئے جائینگے ۔مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ حکومت ہمیں نام دے ، اسکے بعد پھر ہم چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے نام دینگے ، پیر کو ہونیوالے اجلاس میں کسی نتیجہ پر پہنچ جائینگے ،پوری امید ہے کہ ہم اتفاق رائے کے قریب ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے سندھ سے ممبر کیلئے نثار درانی کا نام اہم قرار دیا جا رہا ہے ، نثار درانی کا نام پیپلز پارٹی نے تجویز کر رکھا ہے جبکہ بلوچستان سے ممبر الیکشن کمیشن کیلئے شاہ محمود جتوئی کا نام سامنے آیا ہے ۔ ممبر بلوچستان کا نام جے یو آئی ف نے تجویز کیا ہے ۔ مسلم لیگ ن نے دونوں ممبرزکے ناموں پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے شدہ فارمولے کے تحت چیف الیکشن کمشنر حکومتی نامزد کردہ امیدوار ہو گا جبکہ سندھ اور بلوچستان کے ممبرز اپوزیشن کے نامزد کردہ ہونگے ۔چیف الیکش کمشنر کیلئے بابر یعقوب کا نام خارج کردیا گیا ہے ۔یاد رہے سابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان 6 دسمبر 2019کو ریٹائر ہوگئے تھے اور انکی جگہ جسٹس (ر) الطاف قریشی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کا تقرر 45 روز کے اندر کرنا ضروری ہے اور چیف الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اتفاق ضروری ہے ، تاہم دونوں میں ڈیڈ لاک کے باعث یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ۔چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو ارکان کے تقررکیلئے پارلیمانی کمیٹی کے ارکان میں بھی ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔