وزیر اعظم عمران خان نے آٹے کے بحران سے بچنے کے لئے چیئرمین ایف بی آر کو سرحد پار آٹے کی سمگلنگ روکنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان کو 25.8ملین ٹن سالانہ گندم کی ضرورت ہوتی ہے‘ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دوران ماہ تک 75لاکھ 16ہزار ٹن گندم باقی بچی ہے۔جس کی وجہ آٹے اور میدے کا سرحد پار سمگلنگ ہے۔ جولائی 2018ء میں جبکہ رواں برس16اگست 2019ء کے عرصہ میں 3لاکھ 59ہزار ٹن گندم اور 1لاکھ 98ہزار ٹن آٹا افغانستان برآمد کیا گیا ‘غیر قانونی ترسیل اس سے الگ ہے۔ پاکستان ہمیشہ برادر اسلامی ملک کی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے افغانستان کو غذائی اجناس کی برآمد یہاں تک غیر قانونی ترسیل سے بھی صرف نظر برتا آیا ہے‘ بدلے میں افغان حکومت نے پاکستان کی مصنوعات پر 25فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جبکہ بھارت کے لئے یہ شرخ محض 4فیصد ہے یہی وجہ ہے کہ افغانستان آٹے کی سمگلنگ میں اضافہ ہو چکا ہے ۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم کا ملک کو بحران سے بچانے کے لئے افغانستان آٹے کی سمگلنگ روکنے کی ہدایت مبنی بر انصاف محسوس ہوتی ہے ۔بہتر ہو گا حکومت صرف آٹے ہی نہیں بلکہ دیگر اشیا کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بھی فول پروف بندوبست کرے تاکہ ملک کو آٹے کے بحران سے بچانے کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کو غیر منصفانہ ٹیرف پر نظرثانی کرنے پر بھی مجبور کیا جا سکے۔