گزشتہ روز میں نے اپنے کالم میں ہیڈ راجکاں چولستان میں لینڈ مافیا کی طر ف سے مظلوم خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذکر کیا تھا جبکہ چولستان امن کی دھرتی ہے ۔ آئیے !دیکھتے ہیں کہ چولستان کے شاعر خواجہ فرید ؒنے وسیب سے کس قدر محبت کی ہے ؟ خواجہ فریدؒ 1845ء میں پیدا ہوئے اور 1901ء میں وصال فرمایا ۔ چھپن سال کی مختصر عمر میں سے اگر 16سال سن بلوغت تک پہنچنے کے نکال دئیے جائیں تو باقی 40برس رہ جاتے ہیں ۔ ان چالیس برسوںمیں آپ نے اپنے گھر چاچڑاں شریف کم اور روہی میں زیادہ رہے ۔ 1875ء میں ملتان ، لاہور اور اجمیر شریف میں مزارات کی زیارتوں کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے حجاز مقدس بھی تشریف لے گئے ۔ اس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ایک سال سے زائد عرصہ صرف ہوا ۔ علاوہ ازیں ہند ، سندھ میں پھیلے ہوئے مریدوں اور عقیدت مندوں کے پاس بھی آپ کا آنا جانا رہا ۔ ماہرین فریدیات کے مطابق روہی میں آپ کا قیام(غیر مسلسل) اٹھارہ سال ہے ۔ اس کے باوجود روہی میں قیام کی خواہش کبھی کم نہ ہوئی ۔ آپ نے اپنے کلام میں روہی کو اپنا وطن قرار دیا اور جگہ جگہ روہی پہنچنے کیلئے بے تابی و بیقراری کا اظہار فرمایا: سندھڑے رہن نہ ڈٖیندیاں لگڑیاں تانگھاں پل پل روہی مینگھ ملہارڑاں کھمنْیاں کھمیاں اَحٖ کل خواجہ فریدؒ صحیح معنوں میں مناظر فطرت کا شاعر ہے ۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ مناظر ہی نہ ہوں تو منظر نگاری کیسے ہوگی؟ ہماری دھرتی روہی کو خالق کائنات نے مناظرے سے اتنا مالا مال کیا کہ مناظر کبھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جیسے مناظر حسین ہیں منظر نگاری اس سے زیادہ بہترین ہے ۔ منظر نگاری کے حوالے سے خواجہ فریدؒ کا مقابلہ ’’گوئٹے ، شیلے وغیرہ میں سے کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔ خواجہ ؒنے اپنے دیوان میں سو سے زائد جگہوں پر روہی میں بارش اور اس کے متعلقات کا ذکر کیا ہے ۔ اس کیلئے بجلی ، لسک ، گاج ، گرج ، کنْ منْ ، رم جھم ، گھٹا ، مینھ ، مینھ بوری ، مینہہوسراند ، بادل ، بدلی ، بارش ، باران، برسات ، ووٹھ ، ووٹھڑی ، برکھا ، برکے ، بونداں ، پھنگاراں ، پھواراں ، پینگھ ، جھڑ اور مینگھ ملہار جیسے سرائیکی الفاظ ایک ایک بار نہیں بلکہ کئی کئی بار استعمال کئے ہیں۔ ایک کافی ہے ’’تَوں بن موت بھلی‘‘خواجہ فریدؒ نے اس کافی میں روہی میں برسات اور برسات جیسی سہانی ساعت کی عکاسی کے ساتھ اس سہانی گھڑی میں روہی میں اپنی عدم موجودگی کے نتیجے میں بے چینی و بے قراری کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کی تفسیر یا وضاحت سے ہمارے الفاظ قاصر ہیں: تَوں بن موت بھلی ، ویندم شالا مری یورپ طرف ڈہوں مینگھ ملہار ڈٖٹھم بجلی لسک ڈٖتی گج گج گاج سُنْیم رہساں اِتھ نہ اَڑی ، ویساں وطن وری کافی کے آخر میں فرماتے ہیں: کھیون کھمدی فرید ، جھوکاں یاد پوون اَکھیاں نیر ہنجوں کر برسات وسن لکھ لکھ دھانہہ اُٹھم جاں جاں ڈٖسم جھڑی اسی طرح ایک اور کافی ہے ’’پورب للہاوے پتالوں پانْی آوے‘‘ میں کافی کی مٹھاس اور اس کی موسیقیت پر تو کافی عرصہ سر دھنتا رہا لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ پتالوں پانی آوے کا کیا مطلب ہے؟ ماہر فریدیات شیخ محمد سعید جن کی کتاب ’’جہانِ فرید‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور فریدیات پر جنہو ںنے سرائیکی اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی کتابیں تصنیف کی ہیں ، نے مجھے بتایا کہ خواجہ فریدؒ کا یہ شعر ایک سائنسی شعر ہے اور ایسے کہ سائنس کے تجربے اور سمجھدار لوگوں کے مشاہدے نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ’’جب یورپ کی ہوائیں چلتی ہیں تو پاتال یعنی دھرتی کی تہہ سے پانی اوپر کی سطح پر آ جاتا ہے ۔ اس خوبصورت وضاحت کے بعد آپ دیکھیں کہ روہی میں پورب کی ہوا چلے ، بارش ہو جائے پھر روہی کا منظر کتنا سہانا اور حسین ہوتا ہے؟ روہی رنگ رنگیلی چک کھپ ہار حمیلاں پاوے بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگن گیت پرم دے گاٖوے ایک اور جگہ فرماتے ہیں: تھیاں روہی مینگھ ملہاراں گل گلزاراں باغ بہاراں وج سہندیاں گھنڈ تواراں ہر ٹوبھے چھانگاں چھیڑے روہی میں جب بارش ہوتی ہے تو ہر طرف ہریالی ہی ہریالی اور سبزہ ہوتا ہے اور روہی کے جانوروں کو خوراک (چارہ) وافر مقدار میں میسر آتا ہے ۔ روہی میں ایک بوٹی ہے ، سردھامن ، بارش ہو جائے تو اس کا نقشہ خواجہ فریدؒ نے ایک لائن میں اس طرح کھینچا ہے: رشک خوئید ڈسے سر دھامن خوئید کیا ہے؟ یہ بھی سرائیکی کا ایک ہی خوبصورت لفظ ہے ۔ اس کا معنی ہم ماہر لسانیات پروفیسر شوکت مغل سے پوچھیں گے ۔ میں کہہ رہا تھا کہ روہی میں بارش ہوتی ہے ۔ جانوروں کا گھاس بہت اُگ آتا ہے اور گھاس کا اعجاز یہ ہے کہ جانور دودھ بہت زیادہ دیتے ہیں ۔ خواجہ فریدؒ نے فرمایا: نند نہ ماوم کھیر مولا ماڑ وسایا ایک اور جگہ فرمایا: روہی ووٹھڑی گھا تھئے مٹڑیں لگیاں جاگاں خواجہ فریدؒ بادشاہ تو نہیں تھے مگر بادشاہوں کے بادشاہ ضرور تھے ۔ کئی ملکوں کے بادشاہ ان کے مرید تھے لیکن اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کہ کوئی خواجہ فریدؒ کو جتنا مرضی دھرتی سے جدا کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ یہ بھی کہہ دیں کہ خواجہ فریدؒ کا کلام تصوف کے ماسوا کچھ ہے ہی نہیں ، لیکن پھر بھی خواجہ فریدؒ اس دھرتی کا شاعر ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ خواجہ فریدؒ نے تصوف کی شاعری بھی کی ہے لیکن اس سے زیادہ اپنی مٹی اور اپنی دھرتی کی شاعری کی ہے ۔ وہ دھرتی کے شاعر تھے ، ان کے پیری مریدی کے حوالے سے انکار نہیں مگر آج کے پیری مریدی کے مقابلے میں وہ بہت بڑے انسان تھے۔ سرمہ چشم شد بخاری را خاکپائے غلام خواجہ فریدؒ