’’ وسیب کی آواز ‘‘ حال ہی میں شائع ہونیوالی سید اختر گیلانی کی کتاب کا نام ہے ۔ روزنامہ 92نیوز میں شائع ہونیوالا میرا کالم وسیب کے نام سے ہے ۔ سید اختر گیلانی کہہ رہے تھے کہ در اصل آپ کا کالم بھی وسیب کی آواز ہے ۔ انہوں نے وسیب کی آواز میں نہایت اہم موضوعات پر گفتگو کی ہے ۔ کتاب کی اشاعت کے بعد سیدا ختر گیلانی بہت خوش ہیں کہ ادبی حلقوں میں کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی ہے ۔ انہوں نے مجھے فون پر بتایا کہ میں نے ملتان کی ایک ہر دل عزیز شخصیت شیخ احسن رشید صاحب کو اپنی کتاب پیش کی تو انہوںنے مجھ سے کہا کہ آپ پچاس کتابیں پوری قیمت پر مجھے بھیج دیں ۔ سید اختر گیلانی کے ساتھ مجھے بھی خوشی ہوئی کہ اگر ایسے کتاب دوست چند ہی مل جائیں تو کتابوں کی اشاعت بہت حد تک آگے جا سکتی ہے ۔ پہلے ایک وقت تھا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کتابیں خرید کرتی تھی ۔ لکھاری کی بہت مدد ہو جاتی تھی ، مگر اب نیشنل بک فاؤنڈیشن ایسا نہیں کرتی۔ حالانکہ کتابوں کے سلسلے میں سرپرستی کا عمل جاری رہنا چاہئے ۔ سید اختر گیلانی کی کتاب اپنا تعارف آپ ہے ۔ انہوں نے کتاب میں اپنے تاثرات نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کیے ہیں ۔ سید اختر گیلانی لکھتے ہیں ’’میں اتنا بڑا رائٹر نہیں ہوں مگر وسیب کے دکھو ںنے مجھے لکھاری بنا دیا ہے ۔ گورنمنٹ کی ملازمت کے دوران مختلف جگہوں پر رہا اور لاہور میں بھی میری تعیناتی رہی ،وہاں میں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بیان سے باہر ہے ، میں نے دیکھا کہ وسیب کے تمام وسائل لاہور میں بے دردی کے ساتھ خرچ ہو رہے تھے ، ہمارے اپنے علاقے میں صورتحال یہ ہے کہ بہت سے دیہی علاقوں میں جانور اور انسان ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں جبکہ لاہور میں کروڑوں روپے کی لاگت سے میوزیکل فوارے بنائے جا رہے تھے ۔ لاہور کو فلائی اوور ، انڈر پاسز اور پارکوں کا شہر بنا دیا گیا ہے میں نے یہ بھی دیکھا کہ لاہور میں بہترین اور اعلیٰ کارپٹ سڑکوں کو توڑ کر دوبارہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے وسیب کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں لوگوں نے سڑک کا منہ نہیں دیکھا ،جنوبی پنجاب میں تعلیم ، صحت اور روزگار کی حالت بہت ابتر ہے جبکہ لاہور میں درجنوں یونیورسٹیاں ہیں ، کالج اور سکولوں کا کوئی شمار نہیں ۔ملتان میں چلڈرن ہسپتال منظور ہوا تو وہ بھی لاہور لے جایا گیا ، نشتر کے بعد کوئی بڑا ہسپتال نہیں بنا جبکہ لاہور میں بڑے بڑے ہسپتال ہیں ۔پورے پنجاب کو مرکنٹائل کر دیا گیا ہے ،پنجاب میں ساہیوال سے آگے داخل ہوں تو انڈسٹری ہی انڈسٹری نظر آتی ہے ۔ ‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’وسیب کے دکھ کا شکر گزار ہوں کہ اس کی وجہ سے میں صاحبِ کتاب بن گیا ہوں ۔اسی دکھ کے صدقے ہماری سوچ بھی بیدار ہوئی ہے ، ہماری کتابیں بھی آئی ہیں ، ہماری قومیت بھی تسلیم ہوئی ہے ، یونیورسٹیوں میں اور کالجوں میں سرائیکی تعلیم بھی شروع ہوئی ہے اور آج ہم خود کو فخر سے سرائیکی کہنے کے لائق ہوئے ہیں ۔ زندگی نے وفا کی تو میں ملتان کے مشاہیر کے بارے میں بھی الگ کتاب لکھوں گا اور ملتان میں جن لوگوں نے علمی خدمات سر انجام دی ہیں ان کے بارے میں الگ کتاب لکھوں ، جی چاہتا ہے کہ تاریخ ملتان کے بارے میں لکھواور ملتان کی قدامت اور عظمت کے بارے میں بھی لکھوں ۔ ابھی آج ہی بات ہو رہی تھی کہ سابقہ کی طرح موجودہ حکمرانوں کی بھی وسیب کی طرف توجہ نہیں ہے۔ آج کے اخباروں میں وزیراعلیٰ عثمان خان بزدار سنگر ببو برال کی بیوہ کو تین لاکھ اور تصور خانم کو پانچ لاکھ کا چیک دے رہے ہیں ، ان کو نصیر مستانہ کی بیوہ یاد نہیں حالانکہ سرائیکی سنگر جمیل پروانہ اور نصیر مستانہ کی چالیس سالہ خدمات ہیں ۔ ‘‘ میں نے کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات میں لکھا کہ ’’سید اختر گیلانی میرے بزرگ دوست اور بڑے بھائی ہیں ۔ میں ان کا اس لئے بھی قدر دان اور عقیدت مند ہوں کہ شاہ صاحب اپنی دھرتی ،اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے محبت کرتے ہیں ۔ انتہائی سادہ اور نہایت ہی مخلص انسان ہیں ۔ نمودو نمائش نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ۔ ترقی پسند سوچ رکھتے ہیں ، غریبوں کے ہمدرد و غمگسار ہیں۔زیر نظر کتاب میں آپ کو ان باتوں کی جھلک نظر آئے گی ۔شاہ صاحب نے دوران ملاقات مجھے فرمایا کہ وسیب کی محرومی اور پسماندگی کے ذمہ دار وسیب کے وڈیرے اور جاگیردار بھی ہیں‘ اگر یہ لوگ آج بھی بات کو سمجھ جائیں تو وسیب کا غریب ان کو طاقتور بنا سکتا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں اپنے گیلانی خاندان سے بات کروں گا ۔یہ خاندان سیاسی نہ تھا ، ہمارے بزرگوں کا تعلق روحانی سلسلے سے تھا‘ دوسرے خانوادوں کے مقابلے میں گیلانی خاندان نے غریب سے تعلق پیدا کیا اور ان کو اپنے ساتھ بٹھایا ۔ اس کے بدلے غریب طبقات نے گیلانی خاندان کو اپنا رہنما بنایا اور یہ خاندان سیاسی معراج تک پہنچا۔ یہ مقام و مرتبہ گیلانی خاندان کو غریب طبقات کی وجہ سے ملا ۔آج بھی یہ خاندان وسیب کے غریب کو گلے لگائے ، ان سے تعلق بڑھا ئے ‘ ان کے دلی جذبات کی قدر کرے ‘ وسیب کی زبان ، ثقافت سے پیار کرے ، وسیب کے حقوق اور ان کے اختیار کی بات کرے ‘ان کے دل کی آواز صوبہ الگ سے کی حمایت کرے تو میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دی سکتی ۔ سید اختر گیلانی کے جذبات اور خیالات میرے اپنے دل کی آواز ہے۔ اس میں اتنا اضافہ کروں گا کہ صرف گیلانی خاندان ہی نہیں ،وسیب میں بسنے والے ( بشمول مہاجر آباد کار) جتنے خانوادے ہیں ، سب کو ایسا کرنا چاہئے۔ جب وہ ایسے ہی ہونگے تو ان کا شمار نہ صرف پاکستان بلکہ دنیاکے اکابرین میں سر فہرست ہوگا۔ ‘‘ سید اختر گیلانی کی کتاب کی اشاعت کے موقع پر یہ عرض کروں گا کہ ملتان میں اکادمی ادبیات کا دفتر گزشتہ دورِ حکومت میںہو چکا ہے ، مگر یہ محض نام کا دفتر ہے ۔ اس کے پاس فنڈز نہیں ہیں ۔ وفاقی حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو اس طرف توجہ دینی چاہئے ۔ سابق ڈپٹی کمشنر جناب زاہد سلیم گوندل کی ذاتی کوششوں سے سابق دورِ حکومت میں ملتان میں ٹی ہاؤس قائم ہوا جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح لاہور میں پلاک نام سے ادارہ موجود ہے ، اسی طرح وسیب میں سلاک کے نام سے ادارہ قائم ہوناچاہئے اور اسے بھی اتنے ہی فنڈز ملنے چاہئیں جتنے کہ پلاک کو حاصل ہیں ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اس بارے توجہ کریں کہ وسیب کے اہل قلم گوناگوں مشکلات کا شکار ہیں ، مشکلات کے ازالے کیلئے اس طرح کے ادارے کا قیام از بس ضروری ہے ۔