اسلام آباد(سید نوید جمال ) وفاقی حکومت وعدوں کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ملک میں ایک بھی نیا سیاحتی مرکز یا مقام متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے ،وزیر اعظم و تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے گزشتہ سال عام انتخابات 2018 سے قبل پاکستان میں سیاحت کوفروغ دینے کے حوالے سے سیاحتی پالیسی جاری کرتے ہوئے اعلان کیاتھا کہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں ہر سال چار نئے سیاحتی مرکز یا مقام متعارف کرائے گی،تحریک انصاف کے صوبہ خیبرپختون خوا میں گزشتہ پانچ سال کے دوران حکومت ہونے کے باوجود نئے سیاحتی مراکز متعارف نہیں کرائے جاسکے ۔پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کی کامیابی کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی ایک بار پھر آمد کا سلسلہ جاری ہوگیاہے جبکہ مقامی سیاحوں نے سیاحتی مقامات کو رخ کیاہے تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں نئے سیاحتی مقامات متعارف نہیں کرائے گئے ۔وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے چند سال قبل صوبہ خبرپختون خوا کے سیاحتی مقام اپر دیر میں واقع ایک سیاحتی وادی جیسے کمراٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے کا دورہ کیا تھا اور اعلان کیاتھا کہ ان کی حکومت اس سیاحتی مرکز میں سیاحوں کی رسائی کے لئے اقدامات کریں گے تاہم تاحال تحریک انصاف کی وفاقی اور خیبرپختون خوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے اس خوبصورت سیاحتی کی بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ شمالی علاقہ جات ناران کاغان میں سیاحت کی صورتحال کے حوالے سے ناران کاغان ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر مطیع الرحمن کا کہنا ہے کہ ناران و شوگران کے علاقوں میں صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہاں مزید تعمیرات کی گنجائش ہی نہیں مگر سیاح ہر سال بڑھتے ہی جا رہے ہیں،اگر وہاں پر مناسب انفراسٹرکچر تعمیر کر دیا جائے تو اس سے سیاحت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے چند مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جنھیں آنے والے برسوں میں بہتر سہولیات کے ساتھ آراستہ کیا جاسکتاہے ۔ تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے چند ماہ پہلے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک نئی موبائل ایپ ’کے پی ٹورازم‘ کے نام سے متعارف کرائی ۔وزیر اعظم عمرا ن خان کی جانب سے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا چیئرمین مشیر وزیر اعظم سید زلفی بخاری کو بنایا گیا ہے جبکہ بورڈ میں چاروں صوبوں سے سیاحت سے وابستہ شخصیات کو شامل کیاگیاہے ۔ اس بورڈ کو ملک میں سیاحت کے فروغ ،نئے سیاحتی مقامات کی تلاش اور انفراسڑکچر کو بہتر بنانا تھا تاہم نیشنل ٹورازم کورڈنیشن بورڈ بھی تاحال سیاحت کی بہتری کے لئے اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے ۔