اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی قلت اور آٹے کی بے قابو قیمت سے نمٹنے کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن کو گندم درآمد کرنے کھلی چھوٹ دیدی ۔ٹی سی پی نے 15 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کیلئے 75 ارب روپے کا تخمینہ پیش کردیا ۔ ٹی سی پی کو گندم درآمد کرنے کیلئے پیپرا رولز سے استثنیٰ دیدیا گیا ۔ ٹی سی پی کسی بھی نجی کمپنی سے براہ راست معاہدہ کرسکے گی۔ لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کیلئے ضروری فنڈ مہیا کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی ۔92نیوز کوموصول دستاویز کے مطابق وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس 3اگست کوہوا جس میں وزارت تحفظ خوراک کی جانب سے حکومتوں کے مابین بندوبست کے ذریعے گندم کی در آمد،ٹریڈنگ کارپوریشن ،پاسکو اور نجی شعبے کے ذریعے گندم کی در آمد کے حوالے سے پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ ملک میں گندم کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے 15لاکھ ٹن گندم در آمد کرنے کا مشورہ دیا گیا۔موجودہ سال کے دوران ملک میں 2 کروڑ 60لاکھ ٹن گندم کی دستیابی کا تخمینہ لگایا گیا جس میں 2کروڑ54لاکھ ٹن گندم کی پیداوار جبکہ 6لاکھ ٹن گزشتہ سال کی گندم موجود ہے ۔موجودہ مالی سال کے دوران گندم کی قومی کھپت کا تخمینہ 2کروڑ74لاکھ ٹن لگایا گیا جس میں 10فیصد بیج،فیڈاور سٹریٹجک ریزرو بھی شامل ہے ۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت ٹریڈنگ کارپوریشن کو گندم کی در آمد کے حوالے سے طریقہ کار طے کرکے سفارشات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔29جولائی2020کو ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تحفظ خوراک اور چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن کے درمیان ویڈیو میٹنگ کے دوران ٹریڈنگ کارپوریشن کی جانب سے ایک لاکھ ٹن گندم کا تخمینہ 5ارب روپے لگایا گیا۔15لاکھ ٹن گندم کا تخمینہ 75ارب روپے لگایا گیا۔پبلک سیکٹر کا ادارہ ہونے کے ناطے ٹریڈنگ کارپوریشن کو پیپرا رولز2004پر عملدر آمد کرنا ضروری ہے ۔پیپرا رولز کے رول13کے تحت بین الاقوامی ٹینڈر کے کیلئے کم سے کم30دن کا رسپانس ٹائم ضروری ہے ۔رول35کے تحت بولی کی تشخیصی رپورٹ کو سب سے کم بولی لگانے والے بڈر کو کنٹریکٹ دینے سے پہلے 10دن کیلئے پیپرا اور ٹریڈنگ کارپوریشن کی ویب سائٹ پرجاری کرنا ضروری ہے ۔عمومی طور پر کسی بھی بین الاقوامی خریداری کے منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن کو 110سے 120دن کی ضرورت ہوتی ہے ۔وفاقی کابینہ کی جانب سے پیپرا رولز کے رول13اور35میں استشنیٰ دینے کی منظور ی حاصل کرلی گئی ۔وفاقی کابینہ کی جانب سے کم بولی کیلئے دوسرے سپلائزز سے مذاکرات کرنے کی منظوری دی گئی۔ٹریڈنگ کارپویشن کی جانب سے در آمد گندم پر ڈیوٹی اور ٹیکس سے استشنیٰ ہوگا۔ بندر گاہوں،گوداموں سے گندم کی مقررہ منزل پر بروقت پہنچانے کیلئے وزارت خوراک کو وصول کنندہ ایجنسی نامزد کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔