وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز 15لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 60فیصد سے زائد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ملکی زرمبادلہ میں بائیس فیصد حصہ زراعت کا ہے۔ بدقسمتی سے زراعت پر حکومتی توجہ انتہائی کم ہے۔ گندم کی فصل ابھی کٹی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں گندم اور آٹے کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ گو اس مرتبہ حکومت پنجاب نے ماضی کی نسبت بہتر دام دے کر گندم خریدی ہے لیکن بہتر مینجمنٹ نہ ہونے کی بنا پر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اب 15لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے جو خوش آئند ہے لیکن یہ گندم درآمد کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہماری آئندہ آنے والی فصل پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے کیونکہ اگر درآمدہ گندم اس سال کے آخر تک آتی ہے تو پھر کسان لازمی طور پر متاثر ہو گا۔ لہذا حکومت وفاقی کابینہ کے فیصلوں کو فی الفور عملی جامہ پہنا کر گندم درآمد کرے۔سندھ حکومت کے پاس کافی گندم کا ذخیرہ ہے وہ بھی آٹے کی قلت کو پیش نظر رکھ کر گندم مارکیٹ میں لانے کا اعلان کرے اس سے بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ حکومت اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ تمام صوبائی حکومتیں بھی گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈائون کریں۔جس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔