اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وفاقی کابینہ نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کیلئے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کردیا،ارکان کا90روز میں حلف اٹھانا لازمی قرار ،سینٹ الیکشن کیلئے خفیہ رائے شماری ختم کر نے اور مزید22پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی ۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں موٹر وے واقعہ پر بھی گفتگو کی گئی۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینا ہوں گی، اس وقت تمام جماعتوں کو مل کر قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ کابینہ نے ایجنڈے پر چودہ آئٹمز کی منظوری دیتے ہوئے دو موخر کر دیئے ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 2 ستمبر کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی۔وفاقی کابینہ میں آئینی ترمیم بل 2020 پیش کیاگیا ،نیشنل ڈیزاسٹررسک مینجمنٹ کے سی ای او،نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کے سی ای او ، مسابقتی کمیشن میں ممبر کی تعیناتی ،پشاور،لاہور،راولپنڈی میں اسپیشل کورٹ کے ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے سینٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔ وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے چین کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ہونے والے ایم او یو کی بھی منظوری دیدی۔انٹیلی جنس بیورو کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کا معاملہ،سی ڈی اے اور اسلام آباد میونسپل کارپوریشن کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ موخر کر دیا گیا ۔ اجلا س کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ نے ائیر کموڈور فیصل ایاز صدیقی اور ائیر کموڈور محمد عدنان صدیقی کو پاکستان ائیرناٹیکل کمپلیکس بورڈ کامرا میں بطور ممبر کمرشل اور ممبر ٹیکنیکل تعینات کرنے کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے سول سروسز اکیڈمی کو خود مختار ادارہ بنانے کے حوالے سے مجوزہ بل "سول سروسز اکیڈمی بل 2020 " کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے الیکشن قوانین میں ترمیم کی منظوری دی جس کے تحت منتخب ارکان اسمبلیوںاور سینٹ کو انتخاب کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر حلف اٹھانا ہو گا ورنہ وہ سیٹ خالی قرار دے دی جائے گی ۔ سینٹر شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وفاقی دارالحکومت میں ماڈل جیل کے قیام کے معاملے میں ہدایت کی کہ گرین ایریاز پر کی جانے والی تعمیرات منہدم کی جائیں اور گرین ایریاز بحال کئے جائیں۔ کابینہ نے اینٹی ملیریئل ڈرگ (Anti-Malarial Drugs) اور حفاظتی لباس (Tyvek Suits) کی برآمدات کی بھی منظوری دی۔250 ادویات جن میں ہپیٹائٹس، انفلوئنزا، کینسر وغیرہ جیسے مرض کی ادویات شامل ہیں کی ریٹیل پرائس کو منجمد کرنے کی منظوری دی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پاور سکیٹر کا ہے ۔ آئی پی پیز سے مذاکرات ہو رہے ہیں ، اس مسئلے کو ٹحیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انھوں نے کہا کہ حکومت پنشنروں کو محفوظ بنانا چاہتی ہے ۔سانحہ موٹر وے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ کابینہ سمجھتی ہے کہ اس حوالے سے ایسی قانون سازی ہو جس سے یہ واقعات کم سے کم ہو سکیں ۔ میں سمجھتا ہوں کے ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی ہونی چاہیے ۔سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کے دل میں قانون کی تھوڑی سی بھی پاسداری ہے تو انھیں واپس آنا چاہیے ۔ این این آئی کے مطابق وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کا حق دینے کی آئینی ترمیم کی بھی منظوری دیدی۔دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نواز شریف کوملک واپس لانے کے لئے حکومت عدالتی احکامات پر عمل کے لئے اقدامات کر سکتی ہے ،ان کی واپسی کے حوالہ سے ہمارے پاس آپشنز موجود ہیں۔مختلف ممالک کے ساتھ ملزماں کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر ضمانت دینے والا مکر جائے تو پھر اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے ۔ فیٹف قانون کا منظور ہونا ملک کے مفاد میں ہے ۔ توقع ہے کہ پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دے گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر بل منظور نہ ہوا تو یہ بدقسمتی ہوگی ۔