لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے رپورٹ منظر عام پر لانے کا جووعدہ کیا تھا، پورا کردیا، جو بڑی اہم بات ہے ، وزیراعظم نے معاونین اورمشیروں سے کہاہے کہ وہ اپنے اثاثوں کے گوشوارے دیں تاکہ انہیں بھی پبلک کیاجائے ۔پروگرام ہوکیا رہا ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مشیر خزانہ کے معاملے کو ن لیگ کے خرم دستگیر نے عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے کیونکہ ان کا اعتراض ہے کہ مشیر خزانہ قومی ما لیاتی کمیشن کی سربراہی نہیں کرسکتے کیونکہ آئین اورقانون اس کی اجازت نہیں دیتا ،این ایف سی کا بہت زیادہ جھکائو صوبوں کی طرف ہے جس کی وجہ سے وفاق کو بہت زیادہ انحصار صوبوں پر کرنا پڑتا ہے ، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس جھکائو کو بہتر کیاجائے ،وسائل کے حوالے سے وفاق اورصوبوں میں توازن وقت کی ضرورت ہے ۔ولید اقبال نے کہا ا گر اٹھارویں ترمیم اورنیب کے معاملے میں ن لیگ حکومت کا ساتھ دے تو اس میں ترمیم ہوسکتی ہے ۔تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا رپورٹ کو پبلک کرنا اچھی بات ہے ، مجھے یہ رپورٹ جہانگیرزدہ لگتی ہے ، اس میں سارا ملبہ جہانگیر ترین پر ڈالا گیا ہے ، ایک طرف تو مفادات کے ٹکرائو کا سلسلہ ہے لیکن دوسری طرف خسرو بختیار کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کا بھائی شوگر مل کو چلا رہاہے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں، خسر وبختیار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی،عمران خان کوچاہئے کہ وہ ٹیکسٹائل ملز کے حوالے سے بھی کمیشن بنائیں،سب کا احتساب کرینگے تو پھرہی بات بنے گی۔عارف نظامی نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ شیخ رشید کا کونسا سسٹم ٹھیک ہے ، ان کو لفاظی کا وزیر ہوناچاہئے ، نالائقی ان کا طرہ امتیاز ہے ۔نورالحق قادری کے حوالے سے سوال پر عارف نظامی نے کہا وزیر مذہبی امور نیب کے شکنجے میں نہیں، فوکس میں ہیں ،ابھی تو تحقیقاتی سٹیج ہے ،مجھے حیرانگی ہوئی کہ نیب والے اپنے قیدیوں کو عید کے موقع پر مٹھائی بھی دینگے اورانہیں پھولوں کے ہار بھی پہنائیں گے ۔