پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز کے وکلا پر تشدد کے خلاف لاہور بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ روز ہڑتال کر دی جبکہ ینگ ڈاکٹرز نے بھی او پی ڈی میں کام بند کر دیا۔ ماضی میں وکلا کی طرف سے کچہری میں پولیس اہلکاروں پر تشدد یہاں تک کہ ہیلمٹ کے قانون کی پابندی کا کہنے پر ٹریفک وارڈنز پر تشدد کیا گیا تو سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لواحقین کے ڈاکٹروں سے لڑائی جھگڑے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے یہ ناخوشگوار واقعات کے بعد وکلا اور ڈاکٹرز کی تنظیمیں کیونکہ احتجاج اور ہڑتا ل شروع دیتی ہیں اس لئے انتظامیہ کی طرف سے ہڑتال اور احتجاج سے بچنے کیلئے معاملہ فہمی کے طور پر انصاف اور قانون کے مطابق کارروائی کے معاملات کو دبایا جاتا رہا ہے۔ یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ روز وکلا اور ڈاکٹر وںکے جھگڑے کے بعد لاہور بار اور ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم نے ہڑتال شروع کر دی حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وکلا اور ڈاکٹر کی تنظیمیں اپنے اپنے تئیں معاملات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیتیں اور قصور وار کا تعین کرکے کارروائی کا فیصلہ کرتیں مگر بدقسمتی سے دونوں ذمہ داروں کے تعین کے بجائے متعلقہ تنظیمیں خودپارٹی بن گئیں۔ بہتر ہو گا دونوں تنظیمیں پارٹی بننے کے بجائے حقائق کی چھان بین کے بعد ذمہ داروں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ مستقبل میں ہڑتال اور احتجاج کے باعث سائلین اور مریضوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس قسم کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔