لاہور(اشرف مجید)نیب کی جانب سے سابق حکومت کے سویڈش کمپنی کے ساتھ وہیکل انسپکشن سرٹیفکیٹ سسٹم منصوبے کی تحقیقات شروع ہوتے ہی کمپنی کو مزید 13اضلاع میں کام شروع کرنے کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے نیب کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے غیر ملکی سویڈش کمپنی’’ اوپس ‘‘کیساتھ معاہدے کی تمام تفصیلات دینے کے ساتھ محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران کی جانب سے نیب کو آگاہ کیا گیا کہ معاہدہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی منظوری سے ہوا اور معاہدے میں پانچ فیصد حصہ پنجاب حکومت کے خزانے میں جمع کرانے کی شق بھی انہی کی منظوری سے ڈالی گئی تھی ۔اس دوران سابق حکومت کو بارہاآگاہ کیا گیا کہ غیر ملکی کمپنی کی جانب سے معاہدے کے مطابق پانچ فیصد حصہ بھی خزانے میں جمع نہیں کرایا جا رہا لیکن اس پر سابق حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی جاتی رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق نیب کو آگاہ کیا گیا کہ ایگریمنٹ میں صرف پبلک سروس وہیکل کو فٹنس جاری کرنا تھا لیکن سابق حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کے قریبی عزیز کی مداخلت پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے مذکور ہ کمپنی کو گڈز وہیکل اور رکشہ ،موٹر سائیکل رکشوں سمیت تمام کمرشل وہیکل کو پابند کیا کہ وہ بھی ان سے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں ۔اس اقدام سے نہ صرف خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا بلکہ غیرملکی کمپنی کو بھاری مالی فائدہ پہنچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق نئے سیکرٹری ٹرانسپورٹ پنجاب جاوید اقبال بخاری نے چارج سنبھالتے ہی مذکورہ کمپنی کو مزید مضبوط کرنے کیلئے فوری طور پر مزید 13اضلاع میں فٹنس سنٹرز کو کام شروع کرنے کا حکم جاری کیاتاہم نیب کی جانب سے تمام ریکارڈ طلب کرنے پر نوٹیفکیشن وقتی طور پر روک دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ اور خاص طور پر ٹرانسپورٹ پلاننگ یونٹ کے افسران پریشان ہیں کہ غیر ملکی کمپنی کے اس معاہدے میں پنجاب حکومت کو پہنچائے گئے اربوں کا نقصان کس کے سر ڈالا جائے ۔ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے کہنے پر جن افسران نے معاہدہ کیا ان میں سے بعض تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان تمام افسران کو بھی نیب کی جانب سے شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ نیب کی جانب سے یہ بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ مذکورہ کمپنی پنجاب میں دی گئی اربوں روپے کی سرکاری زمین پر سنٹرز بھی مقررہ مدت میں قائم نہیں کر سکی جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران تمام حقائق کا علم ہونے کے باوجود مجرمانہ طور پر کیوں خاموش رہے ۔