ڈی جی خان تونسہ روڈ پر جھوک یار شاہ کے قریب سیالکوٹ سے راجن پور جانے والی بس اور کراچی سے پشاور آنے والے ٹرالر کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں تین بھائیوں، ایک ہی خاندان کے پانچ افراد اور بس ڈرائیور سمیت 34مسافر جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہو گئے۔ بس اوور لوڈ تھی اور اس کی چھت پر بھی مسافر سوار تھے جن میں زیادہ تعداد مزدوروں کی تھی جو عید کی چھٹیاں گزارنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ حادثہ بس ڈرائیورکی غفلت ،نیند اور تیز رفتاری کے باعث ہوا۔ عید کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع بہت بڑا سانحہ ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔عیدین کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں محنت مزدوری کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد اپنے گھروں کو واپس جاتی ہے اور لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ٹرانسپورٹر نہ صرف منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں بلکہ بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو بٹھا لیا جاتا ہے لیکن ان کی جانوں کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاتی۔ اسی غفلت نے آج درجنوں گھروں کی خوشیاں برباد کرکے انہیں ماتم کدے بنا دیا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نا صرف محکمہ ٹراسپورٹ اس سلسلہ میں اپنی ذ مہ داریاں پوری کرے بلکہ پس ماندہ علاقوں میںسڑکوں کی بجائے ٹرین کے سفر کو فروغ دینے کے لئے ریلوے ٹریک بچھا نے کی طرف دھیان دیا جائے تا کہ دوسرے شہروں میں کام کرنے والے ان علاقوں کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی چھٹیوں میں اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔