لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )گروپ ایڈیٹر روزنامہ 92نیوز ارشاد احمد عارف نے کہا ہے کہ جہاز کے حادثے میں پائلٹ سجاد گل کے جاں بحق ہونے کا مجھے بہت دکھ ہے ، ان کا میرے ساتھ تعارف پشاور کے ایک ہوٹل میں ناشتے کی میز پر ہوا، یہ ہمارے گروپایڈوائزر اسلم ترین کے دوست تھے ،ہم وہاں پر کئی گھنٹے بیٹھے رہے ،بڑی اچھی نشست ہوئی ۔مجھے ان کے میسجز بھی ملتے رہے ۔ان کا آخری میسج یہ ہے کہ ’’زندگی میں اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو ا یک چھوٹا سا اصول اپنا لیجئے ، جوکھویا اس کا غم نہیں،جو پایا وہ کسی سے کم نہیں، جو نہیں ،وہ ایک خواب ہے ،جو ملا وہ لاجواب ہے ‘‘ یہ ان کا آخری میسج ہے ۔ وہ ایک شائستہ آدمی اور بہت ہی مذہبی رجحان کا بندہ اور پکا مسلمان ،پکا پاکستانی تھا۔ ٹی وی چینل پر دیکھ رہا تھا کہ لاہور میں اڑنے سے پہلے اس جہاز کی ایک خرابی سامنے آئی۔نااہلی صرف یہ ہے کہ جہاز کو صحیح حالت میں روانہ نہیں کیا گیا اور یہ اتنا بڑا حادثہ ہوگیا۔ہم نے آئندہ کیلئے سوچنا ہے کہ اس سفر کیسے محفوظ بنایا جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ۔ صحیح صورتحال تب سامنے آئے گی جب بلیک باکس مل جائیگا۔سابق ڈائریکٹر سول ایوی ایشن نصر ت اللہ نے کہا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ دو انجنوں والے جہاز میں دونوں انجن خراب ہوجائیں۔اگر دونوں ا نجنوں میں آگ لگ جائے تو پھر حادثہ ہی ہوتا ہے ۔ انجن اور لینڈنگ گیئرز کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔تجزیہ کار بریگیڈئیر ریٹائرڈ فاروق حمید نے کہا کہ اس حادثے میں دو چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ جہاز کا لینڈنگ گیئر کام نہیں کررہا تھا۔دوسرا یہ کہ اچانک انجن فیل ہوگیا ۔ائیرپورٹ کے قریب پرندے بھی بہت زیادہ ہیں، برڈ ہٹ بھی ہوسکتی ہے ۔ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اب تک ہمارے پاس صرف دو مسافروں کے حوالے سے خبر ہے کہ وہ بچ گئے ہیں، ایک ظفر مسعود ہیں ،وہ ہسپتال میں داخل ہیں، دوسرے مسافر زبیر ہیں ۔19افراد کی لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے ۔