ئی جی پنجاب نے پابندی کے باوجود فیصل آباد میں پتنگ بازی کیباعث دو ہلاکتوں پر رپورٹ طلب کی ہے۔ پتنگ بازی کے خونی کھیل نے کتنے لوگوں کی جان لی اس کا درست اندازہ لگانا تو محال ہے تاہم دستیاب معلومات کے مطابق 1995ء سے 2006ء تک 11 برسوں میں پتنگ بازی کا شوق 221 افراد کی جان لے چکا ہے جبکہ اس عرصہ کے دوران پتنگیں لوٹنے‘ فائرنگ اور چھتوں سے گر کر 6565 افراد زخمی ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ 2005ء میں حکومت پنجاب نے اس خونی کھیل پر پابندی عائد کردی تھی مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے پتنگ بازی پر پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد کے اقدامات کر کے اس خونی کھیل کو روکنے میں خاصی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اسے تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری کہا جائے یا کج فہمی کہ اقتدار میں آتے ہی حکومت نے بسنت منانے کی بات کردی۔ گو بعد میں اپنے فیصلے سے رجوع کرلیا مگر اس حکومتی کمزوری کے باعث جن بوتل سے باہر نکلتا محسوس ہوتا ہے اور اس کا ثبوت گزشتہ روز فیصل آباد اور ساہیوال میں پتنگ بازوں کے سامنے حکومتی اداروں کا بے بس محسوس ہونا ہے۔ فیصل آباد کے بعد سیالکوٹ میں بسنت کے انعقاد کا اعلان ہو چکا ہے۔ بہتر ہوگا حکومت پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ آن لائن پتنگ بازی کے سامان کی فروخت کے تدارک کے لیے بھی عملی اقدامات کرے تاکہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔