قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی آئین کو معطل کرے وہ سنگین غداری کا مرتکب ٹھہرایا جائے،ان کی تقریر کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’’عمر ایوب کے دادا ایوب خان کو قبر سے نکال کر پھانسی دی جائے ۔‘‘ایک اصولی بات کا ایسا حشر جھگڑے کو دعوت دیتا ہے ۔قومی اسمبلی میں بیٹھے اراکین یوں ایک نکتے پر متفق ہوتے ہوئے بھی متفق نہیں نظر آتے۔وجہ یہی ہے کہ سب کے ماضی کے ساتھ کہیں نہ کہیں آمرانہ قوتوں کی حمایت کا داغ لگا ہوا ہے۔اسی لئے کوئی بھی ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماوں اور حکومتی ارکان کی تقاریر کا زیادہ حصہ اگرچہ سیاسی الزام تراشیوں اور ایک دوسرے کے جرائم شمار کرانے میں گزر رہا ہے لیکن ایوان میں ہر بات گھوم کر آئین کی بالا دستی کی طرف آ رہی ہے۔سیاستدان سب سے بڑے جمہوری ادارے میں بیٹھ کر اگر اس بحث کو سنجیدہ و با مقصد نہیں بناتے تو نظام کی نہیں یہ خالص ان کی اپنی ناکامی ہو گی۔ 1973 کے آئین کے تحت پارلیمنٹ سپریم قانون ساز ادارے کے طور پر کام کرتی ہے ۔یہ پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ آئینی طریقہ کار اور کنونشنز کے مطابق قانون سازی اور مالیاتی اختیارات استعمال کرتی ہے۔ مزید برآں، ایگزیکٹیو کا انتخاب ایوان زیریں کے اراکین کرتے ہیں اور ایگزیکٹو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا اور زیریں دونوں کا اثر و رسوخ فوجی مداخلتوں سے وقتاً فوقتاً پٹری سے اترنے والی پارلیمانی جمہوریت کی بکھری ہوئی تصویر کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے جس نے نظریہ ضرورت کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے کردار، اختیار اور ساکھ میں غیرمعمولی کمی پیدا کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، جمہوری ناکامی، بڑھتے ہوئے سماجی تفاوت اور روایتی اور غیر روایتی سلامتی کے خطرات لوگوں میں خوفناک، بڑے پیمانے پر مصائب ، ناانصافی اور محرومیوں کا اس وقت تک باعث بنتے رہیں گے جب تک کہ پارلیمنٹ ان مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے مضبوط نہیں ہو جاتی۔ قانون سازی کے ذریعے سے اور اندرون خانہ جوابدہی کے طریقہ کار کو تیار کرکے ایگزیکٹو پر چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنا ضروری ہو چکا ہے۔ آئین کی بالادستی کا نظریہ بہت سے جمہوری معاشروں میں ایک بنیادی اصول ہے اور حکومت کی طاقت پر ایک چیک کے طور پر کام کرتا ہے،یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نظام آئین کی قائم کردہ حدود کے اندر کام کرے۔ آئینی بالادستی کا نظریہ اکثر جمہوری ممالک کے آئینی ڈھانچے میں شامل ہے اور اسے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے ملکی سالمیت اور برتری کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔آئینی بالادستی اور پارلیمانی خودمختاری کے نظریے کو اکثر جوڑ دیا جاتا ہے۔ پارلیمانی خودمختاری سے مراد وہ نظام ہے جس میں مقننہ کو بغیر کسی پابندی کے قانون بنانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کیا بنا سکتی ہے یا ہٹا سکتی ہے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔یہ ویسٹ منسٹر ماڈل ہے، جس کے تحت برطانیہ کام کرتا ہے،پاکستان بھی اسی طرح پارلیمانی خودمختاری کو اپناتا ہے، حالانکہ اس تصور کی حدود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی رہنما جو فروری 2024 کے انتخابات میں کامیاب قرار دیے گئے ہیں، ان کے پاس آئین کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وفاداری اور ذات سے بالاتر ہو کر پارلیمنٹ کا تشخص بحال کرنے کا بہترین موقع ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بارے میں غلط فہمی کو دور کر دیں گے ۔تاحال یہ توقع پوری نہیں ہو سکی، وجہ حکومت اور پی ٹی آئی کا سیاسی مکالمے سے انکار ہے۔اراکین پارلیمنٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلسل مہنگائی، وسیع انتظامی خرابی اور وسیع پیمانے پر لاقانونیت جیسے مسائل پر آواز اٹھائیں گے ۔ تعلیم، صحت عامہ اور صاف ستھرا ماحول کے لیے مختص رقم میں اضافے کا مطالبہ کریں گے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو بحال کرنے کے لیے نوآبادیاتی قوانین کو ختم کرنا، فوجی حکومتوں کے دوران بنائے گئے قوانین کو جمہوری بنانا اور سیاسی، اقتصادی اور ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہوگی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ سب اپنے ماضی سے توبہ کریں اور آئندہ آئین کے مطابق کردار ادا کرنے کا تہیہ کریں۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس اطہر من اللہ نے ایک لیکچر کے دوران ملک کو درپیش سیاسی بحران اور آئین کی عملداری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بجا طور پر سمجھا گیا ہے کہ پاکستان میں آئینی بحران ہے۔ کیا یہ ایک حالیہ واقعہ ہے؟ جواب اونچی آواز میں 'نہیں' ہے۔ افسوس کہ پچھلے 76 سالوں سے سچ کو دبایا جا رہا ہے ۔ جس سچ کو دبانے کی وجہ سے پاکستان 1971 میں ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’’ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔آئینی بحران کو ختم کرنے کے لیے لامحالہ پاکستان کے قیام سے لے کر آئینی تاریخ کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کے جج کے لیے یہ واقعی قابل رشک کام نہیں ہے کیونکہ نہ تو آئینی تاریخ ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کا کردار چاپلوسی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بحیثیت قوم ہم ایک نازک دوراہے پر ہیں، اور ہمارے پاس یہ موقع نہیں کہ سب ٹھیک ہے اور نہ ہی اپنی غلطیوں کو چھپا سکیں۔ سچ کڑوا ہوتا ہے لیکن بتانا ضروری ہے تاکہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔‘‘ یہی سبق سیاست دانون کے لئے ہے کہ وہ جمہوریت کو کمزور کرنے والی غلطیاں نہ دہرائیں۔