وزیر اعظم شہباز شریف نے پاور سیکٹر کے معاملات پر بیورو کریسی کی بجائے آزاد ماہرین کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم کو پاور سیکٹر سے جڑے مسائل کے پیش نظر پہلے ہی اندازہ ہو جانا چاہئے تھا کہ ملکی معیشت کی تباہی کی واحد وجہ تلاش کی جائے تو یہی شعبہ ذمہ دار ہو گا۔آئی پی پیز سے معاہدوں کی تفصیلات جزئیات سمیت بیورو کریسی سجھ نہ سکی، حکومت کی غفلت یہ رہی کہ آزاد ماہرین سے ان معاہدوں کی بابت مشاورت نہ کی ۔اس غفلت کا خمیازہ بائیس سو ارب کے گردشی قرضے،کپیسٹی چارجز اور ڈالر میں ادائیگی کی شکل میں پورا ملک بھگت رہا ہے۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے کی صورت میں عام آدمی کا گلہ دبا رہا ہے۔ پاکستانی معیشت کے لئے ماہانہ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ (FCA) پاور سیکٹر میں ایک بڑا سوراخ ہے۔ ماہانہ فیول لاگت کی ایڈجسٹمنٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت پر مبنی ہے، جیسے قدرتی گیس، ایل این جی اور کوئلہ۔ ایندھن کی ان قیمتوں میں متواتر اتار چڑھاؤ کی وجہ سے، نیپرا، بیشنل پاور ریگولیٹر، موجودہ مارکیٹ کی قیمت کی بنیاد پر ہر ماہ بجلی کی شرح کے "ایندھن کی قیمت" کے جز میں ترمیم کرتا ہے۔ نیپرا ہر ماہ جب قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیتا ہے تو بم پھینکتا ہے اور پہلے سے بھاری ٹیکس والے بجلی صارفین پر مزید ٹیکس لگاتا ہے۔ بجلی کی قیمتوں کے تعین کے اس طریقہ کار میں ہی نہیں بلکہ پوری پاور انڈسٹری میں شفافیت کا فقدان ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے پاور پلانٹس کتنا ایندھن استعمال کرتے ہیں، صرف بجلی پیدا کرنے والے جانتے ہیں۔ لیکن نیپرا کی پابندی کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اپنے خسارے کو صارفین تک پہنچائے۔پاکستان میں تقریباً 50 فیصد بجلی فوسل فیول یعنی گیس، تیل یا کوئلے سے پیدا ہوتی ہے۔ جب پاور پروڈیوسرز تکنیکی آڈٹ کی اجازت نہیں دے رہے تو استعمال شدہ ایندھن کی مقدار کی تصدیق کون کرے گا؟ اس غفلت کی قیمت غریب صارفین ہی ادا کر رہے ہیں۔بیورو کریسی عام آدمی کے مسائل کا حل نہیں نکال سکی۔ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کو قابو کیے بغیر وفاقی بیوروکریسی کے زیر کنٹرول ناقص گورننس ڈھانچہ بجلی کے شعبے کے بحران کو بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔ حکومت کی طرف سے بجلی کے شعبے کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے قرض تشویش ناک حد کو پہنچ گیا ہے۔پاور سیکٹر ڈیفالٹ کے قریب ہے ۔پاور سیکٹر ڈیفالٹ سے مراد مختلف صارفین بشمول وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور نجی صارفین سے بجلی کمپنیوں کی عدم وصولی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pide) اور حکومت نے 10,000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی پلانٹس کی مجوزہ شمولیت اور جدید میٹرنگ انفراسٹرکچر پر مشاورت کی کیا۔ دو سال پہلے وزیر بجلی خرم دستگیر خان نے کہا تھاکہ حکومت فروری دو ہزات تئیس کے پہلے نصف میں 600 میگاواٹ کے RE پلانٹس کی نیلامی کرنے والی ہے اور اسے فوسل فیول کی تبدیلی کے لیے 10,000 میگاواٹ تک لے جائے گی۔یہ خسارہ لیکن پورا نہ ہوسکا۔ نقصان میں کمی کے لیے بھاری بل صارفین سے وصولکرتے ہوئے عوام دشمن پالیسیوں کو جاری رکھا گیا۔یہ وہ وقت تھا جب حکومت ماہرین سے مشاورت کرتی۔ پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین ندیم الحق اور توانائی کے ماہر طاہر بشارت چیمہ کی مشترکہ تحقیقی رپورٹ میں دیگر چیزوں کے علاوہ، مجوزہ سولر پروجیکٹس سمیت "آئی پی پیز پر پابندی لگانے کی تجویز دی گئی۔یہ جائزہ "پائیڈ پاور کمیشن" نے مکمل کیا اور اس میں اس وقت کے موجودہ اور سابق پبلک سیکٹر بجلی کے ماہرین بشمول این ٹی ڈی سی کے جنرل منیجر پلاننگ، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سابق سی ای او ، سی ایف او پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی شامل تھے۔ ڈپٹی منیجر این ٹی ڈی سی انجینئر، سابق جی ایم نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) ، پیپکو کے ڈائریکٹر فنانس انجینئر ، جی ایم مانیٹرنگ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی انجینئر اور سابق جی ایم این پی سی سی اس جائزے کا حصہ تھے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں کہ تمام آئی پی پیز تھرمل سے ہائیڈرو تک ، نے بنیادی طور پر تین طریقوں سے بے تحاشا منافع کمایا، بشمول پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی اے) میں اوور انوائسنگ، پی پی اے کی مختلف شقوں کی غلط تشریح یا سراسر فراڈ۔ لہذا یہ محفوظ طریقے سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ "سفید ہاتھی آئی پی پیز ہیں اور ہم ان سے جان نہیں چھڑا سکتے "۔ پاور سیکٹر کے مسائلکی جڑعالمی بینک کے مشورے پر نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ طویل المدتی اور ناقابل عمل معاہدوں سے نکلتی ہے، ان کے اثرات کا تجزیہ کیے بغیر غلطی کو بار بار دہرایا گیا، جس سے معیشت تباہ ہو گئی۔ سیکٹرل مینیجرز اور فیصلہ ساز، زیادہ تر غیر پیشہ ور بیوروکریٹس سرکلر ڈیٹ اور پاور سیکٹر کے ڈیفالٹ سے نمٹ نہیں سکے کیونکہ "وہ WB، ADB، USAID کے مشوروں پر انحصار کرتے ہیں، جو زمینی حقائق کو نہیں سمجھتے۔ قرض دہندگان اور بیوروکریسی اس خطرے کے ذمہ دار ہیں۔ بیوروکریٹ وفادار ہو سکتا ہے لیکن پاور سیکٹر کی بنیادی ٹیکنیکل جزئیات اور اکنامکس کو سمجھنا اس کی صلاحیت سے بالا ہے۔بیوروکریٹ سے منصوبہ جلد مکمل کرایا جا سکتا ہے لیکن وہ جلد بازی میں ان معاہدوں میں چھپی چیزوں کا ادراک نہیں کر سکتا جو پاکستان کو موجودہ حالات میں لے آئی ہیں۔ وزیر اعظم بلا تاخیر آزاد ماہرین کی خدمات حاصل کریں اور آئی پی پیز سے جان چھڑانے سمیت تمام نکات پر حکمت عملی میں انہیں شامل کریں۔