لاہور(عثمان علی) حالیہ دنوں میں بعض ایسی ویب سائٹس سامنے آنے کا انکشاف ہوا جو پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کے لیے استعمال ہورہی تھیں،ان ویب سائٹس نے پاکستانی شہروں کو دنیا کے آلودہ شہروں کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پردکھایا جس پر ان ویب سائٹس کے مستند ہونے پر کئی ماہرین نے سوالات کھڑے کر دئیے ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز آلودہ شہروں کی درجہ بندی میں کراچی آلودہ شہروں میں 10ویں ،لاہور16ویں نمبر پر رہا جبکہ ماہرین کاکہنا ہے کہ ساحلی ہواؤں کے باعث کراچی میں آلودگی شرح دوسرے شہروں سے کم ہوتی ہے تاہم درجہ بند ی میں کراچی لاہور سے آلودہ شہرہے جبکہ اس سے پہلے لاہور آلودہ شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر تھااوریہ درجہ بندی جو کہ ائیر کوالٹی انڈکس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں کے مستند ہونے پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں حالانکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے کئی شہر لاہوراور کراچی سے بھی زیادہ آلودہ ہیں ۔اس حوالے سے انوائرمینٹلسٹ علیم بٹ نے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیلئے جو ائیر کوالٹی مانیٹر ز کاڈیٹا لیا جاتا ہے یہ مستند نہیں ہوتا اوریہ چند ہزار روپے کے آلات ہیں جن میں غلطی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔