لاہور(سپورٹس رپورٹر) ایم سی سی کرکٹ کلب کے صدر اور پاکستان کا دورہ کرنے والی ایم سی سی ٹیم کے کپتان کمار سنگا کارا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور لاہور سے ان کی کافی خوشگوار یادیں ہیں ،اسی وجہ سے یہاں آ کر خوشی ہوئی ہے ،ایم سی سی کی ٹیم پاکستان لانے میں ایم سی سی اور پی سی بی حکام کے درمیان کافی سوچ بچار ہوا جبکہ پاکستان میں سکیورٹی کی بہتری کی وجہ سے دورہ کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔، پی سی بی چیف ایگزیکٹو نے وسیم خان نے ایم سی سی کی ٹیم کا 48 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سنگاکارا اور ان کی ٹیم کو خوش آمدید کہتے ہیں جبکہ اس دورہ کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم بھی مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔گزشتہ روزلاہور آمد کے بعد پی سی بی کے چیف ایکزیکٹو وسیم خان کے ساتھ قذافی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنگا کارا نے کہا کہ ان کے پاکستان میں بہت دوست ہیں اور ا نک یبڑی خوش گوار یادیں پاکستان اور لاہور سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2009ء کا واقعہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ ، ییہاں حالات اب کافی بہتر ہو چکے ہیں اور اس واقعہ میں متاثر ہوانے والے سری لنکن ٹیم کے کھلاڑی بھی یہاں آنا چاہتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی ایک اپنی ذاتی حیثیت میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم سی سی ٹیم میں مختلف کاؤنٹیز کے نامور کھلاڑی شامل ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں سنگا کارا نے کہا کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے دوروں کے بعد اب دیگر ٹیموں کو بھی پاکستان آ کر کھیلنا چاہئے ۔سنگاکارا نے کہا کہ آنر بورڈ پر اپنا نام دیکھ کر خوشی ہوئی، پی سی بی اور خاص طور پر وسیم خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان ونڈر فل کرکٹ نیشن ہے ۔ایم سی سی کے کپتان نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ واپس آرہی ہے ، پاکستان کوسپورٹ کرنا اچھا لگ رہا ہے ، سیکیورٹی دنیا بھرمیں مسئلہ ہے پاکستان نے اس پرکام کیا اور اعتماد بحال ہوا، پاکستان میں انٹرنیشنل میچز کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ لاہور بارے بات کرت ے ہوئے ایم سی سی کپتان کمار سنگاکارا نے مزید کہا کہ وقاریونس، شعیب اختر، محمد سمیع، شعیب ملک کے خلاف یہاں ایشین ٹیسٹ چیمپین شپ کھیلی اور قذافی سٹیڈیم کی پچ ہمیشہ بیٹسمینوں کو سپورٹ کرتی ہے ۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان نے کہا کہ ایم سی سی کو یہاں خوش آمدید کہتے ہیں، ایم سی سی کا یہاں آنا بہت خوشی کی بات ہے کمار سنگاکار ا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان میں وائٹ اور ریڈ بال کرکٹ واپس لا رہے ہیں، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ بھی شروع ہوئی ہے ۔ وسیم خان نے مزید کہا کہ جنوبی ایشین ٹیمیں آچکی ہیں اب نان ساو?تھ ایشین ٹیمیں بھی آئیں تاکہ دنیا کوبتانے کا موقع ملے کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے ، جنوبی افریقا کے ساتھ بات چیت آخری مرحلے میں ہے ، اگلے ہفتے تک اس حوالے سے فیصلہ ہوجانا چاہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم اگلے برس پاکستان آ ئے گی، نیوزی لینڈ نے ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کھیلنے ہیں۔وسیم خان نے پریس کانفرنس کے دوران کبڈی ورلڈ کپ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کبڈی ورلڈ کپ کی وجہ سے قذافی اسٹیڈیم میں تمام میچز ہونا ممکن نہیں تھے ، جوں جوں کرکٹ ہوگی سیکیورٹی کے حوالے سے آسانیاں بھی ہوں گی۔