مکرمی! پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 11 دسمبر کو وکلاء حضرات نے پی۔آئی۔سی پر حملہ کیا۔ وکلاء حضرات کے اس طرز عمل کی بدولت کچھ زیر علاج مریض بھی جاں بحق ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ بلکہ قبل ازیں بھی وکلاء حضرات ایسا کرتے رہے ہیں لیکن اس وقت ان کا نشانہ ڈاکٹرز یا ہسپتال نہیں تھے۔ بلکہ عدالتیں یا جج صاحبان ہوتے تھے۔ ہماری کوئی بھی حکومت اس رحجان کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس وہ ان کی برابر پیٹھ ٹھونکتی رہی ہے۔ بارز کے لیئے گرانٹس کا اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کے نامور وکیل چوہدری اعتزاز احسن ان کے سر خیل تھے۔جو وکلاء حضرات کو بہر صورت سر گرم رکھنا چاہتے تھے۔ جس کے لئے قانون یا ضابطہ کی پر واہ ثانوی حیثیت رکھتی تھی ۔اب جبکہ بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے وہی چوہدری اعتزاز احسن آج وکلاء کی مذمت میں پیش پیش دکھائی دیتے ہیں وہ وکلاء حضرات کو قانون کے احترام کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ (محمد یسین بھٹی، ملتان)