لاہور (رانا محمد عظیم ) کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر پاکستانی فوجیوں کی طرف سے بھرپور جواب ملنے ، لداخ میں چینی فوجیو ں کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی درگت اور نیپال کی حکومت کی طرف سے سخت جواب ملنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں پھنس گئے ۔مصدقہ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کیساتھ ساتھ حکمران جماعت بی جے پی کے متعدد لوک سبھا ارکان نے کھل کر نہ صرف تنقید شروع کر دی بلکہ استعفیٰ کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے ۔ بھارتی فوج کیخلاف ملک میں مظاہروں ، پتھرائو اور فوجیوں کی بغاوت نے بھی مودی کو نئے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ایک طرف پارٹی اور دوسری طرف فوج کے اندر بغاوت کی آ وازیں اٹھنے پر نریندر مودی نے خوف کی وجہ سے اپنا سکیورٹی سٹاف بھی فوری تبدیل کر کے جنونی ہندو اہلکاروں کو نئے سکیورٹی سٹاف میں شامل کر لیا ہے جبکہ معروف اسرائیلی بزنس مینوں کی اپنے ناراض لوک سبھا ارکان کو منانے اور انہیں بھاری پیسے دینے کی ڈیوٹی لگا دی ہے ۔ مصدقہ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ جہاں نریندر مودی اس مصیبت سے نکلنے کیلئے دیگر اقدامات کر رہا ہے وہاں وہ ایک نئی چال چلنے کی بھی تیاری کر رہا ہے ، اس نئی سازش میں وہ بھارت کے اندر خود ہی کوئی بڑا دہشتگردی کاواقعہ کرکے الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے اور اسکے فوری بعد وہ سرجیکل سٹرائیک یا فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ کر کے اپنی عوام کی توجہ اس طرف کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کریگا اور اپنی طرف ہونیوالے سخت عوامی رد عمل کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کریگا ۔